بلوچستان کے مختلف علاقوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں نوشکی اور مستونگ میں مسلح کارروائیوں اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ نوشکی میں پاکستانی فورسز کے ہیڈکوارٹرز کے اطراف گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں، جبکہ شہر کے متعدد حصوں پر بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ارکان کا کنٹرول برقرار بتایا جا رہا ہے۔ علاقے میں فوجی ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی جاری ہیں۔
مستونگ میں بھی صورتحال غیر معمولی رہی، جہاں بی ایل اے کے سرمچاروں نے پولیس تھانے پر کنٹرول قائم کرنے کے بعد سرکاری گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا اور متعدد قیدیوں کو رہا کر دیا۔ مسلح افراد نے بینک سمیت دیگر سرکاری املاک کو بھی آگ لگا دی۔
بلوچستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بین الصوبائی ٹرانسپورٹ شدید متاثر ہوئی ہے۔ لاہور اور اسلام آباد سے کوئٹہ آنے والی تمام مسافر بسوں کو رکنی کے مقام پر روک دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں مسافر مختلف شہروں میں پھنس گئے ہیں۔ دیگر بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر معطل ہے، جبکہ فضائی اور ریل سروس بھی جزوی یا مکمل طور پر متاثر ہو چکی ہے، جس سے مواصلاتی اور تجارتی سرگرمیاں تقریباً ٹھپ ہو گئی ہیں۔ تعلیمی ادارے بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں، اور کیڈٹ کالج مستونگ نے یکم فروری کو ہونے والا داخلہ ٹیسٹ مؤخر کرتے ہوئے نئی تاریخ 5 فروری مقرر کر دی ہے۔
واضح رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی نے گزشتہ روز بلوچستان بھر میں “آپریشن ہیروف فیز ٹو“ کے آغاز کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں سے کارروائیوں اور جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔