بلوچستان میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ آپریشن ہیروف 2 کے پیشِ نظر گوادر سمیت بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ اور دیگر کئی شہروں میں وقفے وقفے سے دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
گوادر اورتربت میں کشیدگی کے دوران 13 عام شہریوں کی ہلاکت کا واقعہ رونما ہوا جس میں خواتین اور معصوم بچے شامل ہیں۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز نے آپریشن ہیروف کے دوران بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، جہاں زیادہ تر مزدور رہائش پذیر تھے۔ متاثرہ افراد کا تعلق تحصیل زہری کے دو خاندانوں سے بتایا جاتا ہے۔ حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 12 افراد ہلاک جبکہ 10 کے قریب افراد زخمی ہوئے۔
ہلاک افراد میں نور محمد فقیر زہری ولد ملا جُورک، ان کے بیٹے غلام یاسین اور ایک اور مرد شامل ہیں، جبکہ 4 خواتین اور 5 بچے بھی حملے میں جان سے گئے۔ زخمیوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
حکومت اور فورسز حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سرمچاروں نے گوادر میں عام لوگوں کو نشانہ بناکر قتل کیا ہے جن میں معصوم بچے اور خواتین شامل ہیں جبکہ بی ایل اے کی آفیشنل ٹیلی گرام چینل پر ایک آڈیو جاری کی گئی ہے جس میں میدان جنگ میں موجود ایک جنگجو کہہ رہی ہے کہ ہم نے عام لوگوں کی محفوظ راستہ فراہم کیا لیکن پاکستانی فورسز نے انہیں فائرنگ کر کے قتل کردیا۔
عام شہریوں کی ہلاکت پر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچ عسکریت پسند کسی بھی عام شہری کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔ماضی میں ایسے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جہاں عام شہریوں کو فورسز نے قتل کرکے ان کی ذمہ داری سرمچاروں پرڈال دی تھی ۔
بعض ذرائع یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ بی ایل اے کی آپریشن ہیروف کو روکنے اور اپنی ناکامی چھپانے کے لئے فورسز حکام معصوم افراد کو قتل کرکے واقعہ کو اپنی حمایت میں استعمال کر رہی ہے۔
لیکن اب تک آزادانہ طور پر یہ تصدیق نہیں ہوپائی ہے کہ عام شہریوں کا قتل کون ہے ؟
ادھر تربت سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، پھل آباد، تربت میں فورسز کی جانب سے شہری آبادی پر مارٹر گولے داغے گئے، جس کے نتیجے میں 15 سالہ انس بلوچ ولد ابراہیم ہلاک ہو گیا۔ اس حملے میں ایک پانچ سالہ بچہ اور دو خواتین شدید زخمی ہوئیں۔
حملے کے بعد پاکستانی فورسز نے علاقے میں گھروں کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔
بلوچستان کے بیشتر شہروں میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث جانی و مالی نقصانات کا بروقت اور مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔