بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں حملوں میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی سمیت متعدد اعلیٰ حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔
بلوچستان بھر میں بالخصوص کوئٹہ میں، آج علی الصبح بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ’’ہیروف‘‘ کے تحت حملوں اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔
کوئٹہ ہاکی گراؤنڈ میں پولیس اہلکاروں پر بارود سے بھری گاڑی کے حملے میں ڈی ایس پی کوئٹہ سمیت درجنوں اہلکار ہلاک ہوئے۔
ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس لائن کوئٹہ میں ادا کی گئی، جہاں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، صوبائی وزراء، اراکینِ اسمبلی، آئی جی پولیس بلوچستان اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کا فخر ہیں اور ریاست کے امن و استحکام کے لیے دی گئی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست مخالف عناصر عوام کے عزم اور ریاستی اداروں کی قوت کے سامنے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ اہلکاروں کی قربانیوں سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے حوالے سے حکومتی عزم مزید مضبوط ہوا ہے، اور حکومت امن دشمن سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔
یاد رہے کہ اب تک مختلف حملوں میں سی ٹی ڈی اور پولیس کے درجنوں اہلکار بلوچ آزادی پسندوں کے تحویل میں لیے جا چکے ہیں، جبکہ ایک ایس ایچ او کو ہلاک اور ایک انسپیکٹر کو چار اہلکاروں سمیت اغوا کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں بی ایل اے کے مربوط حملوں کے باعث پاکستانی فورسز اور حکومت کو اپوزیشن اور دیگر حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے، جس کے بعد وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بلوچستان پہنچے ہیں۔
اپوزیشن ارکان نے ان حملوں کو سیکیورٹی فیلیئر اور بلوچستان حکومت کی نااہلی قرار دیتے ہوئے سرفراز بگٹی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ بی ایل اے کے ارکان کے خلاف آپریشن جاری ہے۔
ترجمان شاہد رند کے مطابق اپوزیشن حالات کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔