جمعیت علما اسلام کے مرکزی رہنما وسابق سینیٹر مولاناحافظ حمداللہ نے کہاہے کہ کوئٹہ اور بلوچستان میں حکومت کس کی ہے؟دو دن پہلے وزیر اعلیٰ نے زوردار دعویٰ کیا ہے کہ کوئٹہ بلوچستان کنٹرول میں ہیں آج پورا بلوچستان میں خصوصا ًکوئٹہ سمیت کہیں بھی حکومتی رٹ دکھائی نہیں دے رہی۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی اضلاع ہفتہ کی صبح سے کئی گھنٹے غیر ریاستی مسلح گروپوں کے حصار میں رہے مگر حکومت اور سیکورٹی فورسز کہیں بھی نظر نہیں آئیں، لہٰذا بلوچستان پر مصنوعی سیاسی لوگوں کی برائے نام حکومت مسلط کی گئی ہے۔
مولاناحافظ حمداللہ نے کہاہے کہ عوام کے جان،مال،عزت اور آبرو غیرمحفوظ ہے، لہٰذا حکومت اپنی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے مستعفی ہوجائے ۔موجودہ جعلی حکومت اور اسمبلی عوام پر بوجھ بن چکی ہے، بلوچستان میں بدامنی اور فساد کی جڑ موجودہ حکومت اور اس کی منفی پالیسیاں اور فیصلے ہیںجو بھی نقصان بلوچستان میں ہوگا ذمہ دار نااہل اور بے اختیار حکومت ہے اور رہے گی۔
یاد رہے کہ آج بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بی ایل اے نے آپرشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے علی الصبح بلوچستان کے14 شہروں میں48 مختلف مقامات پر منظم حملے کیئے، جہاں گزشتہ دس گھنٹوں سے سرمچاروں کا مضبوط کنٹرول بدستور قائم ہے۔
کوئٹہ، نوشکی، مستونگ، دالبندین، قلات، خاران، پنجگور، گوادر، پسنی، تربت، تمپ، بلیدہ، منگوچر، لسبیلہ، کیچ اور آواران میں دشمن کے عسکری، انتظامی اور سیکورٹی ڈھانچوں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں کے دوران پاکستانی فوج، پولیس، خفیہ اداروں اور سی ٹی ڈی کے مجموعی طور پر84 اہلکار وں کی ہلاکت اور18 اہلکاروں زندہ گرفتارکرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اس دوران حکومتی فورسز کی نقل حرکت مکمل محدود اور دفاعی پوزیشن میں رہے ۔آپریشن کے دوران30 سے زائد سرکاری املاک کو کنٹرول میں لے کر تباہ کیا گیا، جن میں بینک، سرکاری دفاتر اور جیل شامل ہیں۔ اس کے ساتھ فورسز کی23 سے زائد گاڑیوں کو نذرآتش کیا گیا ہے۔ متعدد شہروں میں انتظامی ڈھانچوں پر براہِ راست دباؤ کے باعث دشمن کے روزمرہ امور اور فیصلہ سازی مفلوج ہوچکی ہے۔