اورناچ اور پسنی میں فورسزپر حملہ، 20 اہلکار ہلاک، 7 گرفتار، نوشکی میں عدالت کی عمارت نذرآ تش

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان بھر میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی آپریشن ہیروپ کا دوسرا مرحلہ جاری ہے ،حالات شدید کشیدہ ہیں ۔کئی شہروں پر بلوچ سرمچاروں نے کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ضلع خضدار کے علاقے اورناچ پاکستانی فورسز پرمربوط حملوں میں 20 سے زائد فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جارہا ہے جبکہ 7 کو زندہ پکڑنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ادھر نوشکی شہر میں جنگجوؤں نے بڑے پیمانے پر مربوط حملے کے دوران عدالت کے عمارت پر قبضے کے بعد اسے نذر آتش کردیا ہے ۔

ضلع گوادر کے ساحلی شہر پسنی سے اطلاعات ہیں کہ جنگجوئوں نے پاکستان کوسٹ گارڈ کیمپ پر حملہ کرکے اندر جانے میں کامیاب ہوگئے جہاں تاحال جھڑپیں جاری ہیں ۔

حملہ آوروں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔جس نے ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے جس میں وہ بلوچ قوم سے اس جنگ کا حصہ بننے کی اپیل کر رہی ہیں۔

دوسری جانب ضلع خضدار کے قریب اورناچ میں بلوچ پارلیمنٹیرین اور بلوچستان کے سابق وزیر ظفر زہری کے قافلے کو خضدار کے علاقے اورناچ کے قریب مسلح افراد روکا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرمچاروں نے شناخت کے بعد اسے بغیر کسی نقصان کے آگے بڑھنے کی اجازت دی ۔

بی ایل اے کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ’’آپریشن ہیروف ٹو‘‘ کا حصہ ہیں۔

Share This Article