بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بلوچ عسکریت پسندوں کے شدید نوعیت کے حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جہاں صورتحال شدید کشیدہ بتائی جارہی ہے ۔
مختلف شہروں پر عسکریت پسندوں اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑہیں جاری ہیں جبکہ کئی شہروں پر عسکریت پسندوں کے کنٹرول سنبھالنے اور سرکاری عمارات پر قبضے کی ابھی اطلاعات ہیں۔
ا س ے قبل بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اپنے آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق خاران، گوادر، کوئٹہ، نوشکی، پسنی اور دالبندین سمیت کئی علاقوں میں دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
بی ایل اے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کا آغاز بلوچستان بھر میں کیا جا چکا ہے، جسے تنظیم نے ریاستی سکیورٹی اور انتظامی ڈھانچوں کے خلاف مزاحمت قرار دیا ہے۔
بیان میں مقامی آبادی سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ تنظیم کے ساتھ کھڑی ہو۔
خیال رہے کہ بی ایل اے کے آپریشن ہیروف کے پہلے مرحلے کا آغاز 26 اگست 2024 کو کیا گیا تھا جس میں بی ایل اے کے مختلف سرمچاروں نے مختلف علاقوں میں بہ یک وقت مختلف علاقوں میں حملوں کا آغاز کیا تھا جب کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے بیلہ کیمپ پر حملہ کرکے چھبیس گھنٹے سے زیادہ اس کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہفتے کی صبح مسلح جھڑپوں اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
بلوچستان کے کئی اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال شدید کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔
بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے نہایت حساس علاقے ریڈ زون میں فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، شہر میں مختلف مقامات پر دھماکوں اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق نوشکی کی سینٹرل جیل کے نزدیک شدید فائرنگ کی اطلاعات ہیں اور بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں بی ایل کی سینٹر جیل پر قبضے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
ادھر نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب بھی مسلح جھڑپیں جاری ہیں، جہاں گولہ باری اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ جبکہ نوشکی میں سی ٹی ڈی آفس کو بی ایل اے کے سرمچاروں نے اپنے قبضے میں لے کر متعدد اہلکاروں کو گرفتار کرلیا ہے۔
کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں درجنوں مسلح افراد کے شہر میں داخل ہونے کے بعد پولیس پر حملہ کیا گیا جہاں حملے میں پولیس کی کئی گاڑیاں نذرآتش، متعدد اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اسی طرح قلات میں مسلح افراد نے ایک کارروائی کے دوران فورسز کے کیمپ کے مرکزی دروازے کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا جس کے بعد مسلح جھڑپیں شروع ہوگئیں۔
کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر سریاب پولیس تھانہ کے قریب ایک پولیس موبائل پر مسلح افراد نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، پولیس موبائل مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئی۔
ریلوے اسٹیشن کی جانب سے بھی فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنیں گئی ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ آپریشن ہیروف کا دوسرا مرحلہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شروع کر دیا گیا ہے، تنظیم نے اسے “ریاستی سکیورٹی اور انتظامی ڈھانچوں کے خلاف مزاحمت” قرار دیا ہے بیان میں مقامی آبادی سے تنظیم کے ساتھ تعاون کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
بی ایل اے کے آفیشل ہینڈلز پر حملوں کی ذمہ داری سے متعلق پیغامات اور ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں۔
بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب نے ایک طویل پیغام جاری کیا ہے جس میں بلوچ عوام کو گھروں سے نکلنے اور پاکستانی فورسز کے خلاف لڑنے کی کال دی گئی ہے، یہ پیغام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور تنظیم کے آفیشل چینلز پر نشر کیا گیا ہے۔