پاکستانی فوج نے بلوچستان میں 2 مبینہ کارروائیوں میں 41 مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے ۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 29 جنوری کو بلوچستان میں دو الگ الگ کارروائیاں کی گئیں جن میں 41 مسلح افراد ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے دعوے میں کہا کہ ہرنائی ضلع کے نواحی علاقے میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی کی گئی، اس دوران سکیورٹی فورسز نے مسلح افراد کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 30 مسلح افراد ہلاک کیے گئے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ہلاک مسلح افرادکے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا اور برآمد شدہ دھماکا خیز مواد کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دوسری کارروائی ضلع پنجگور میں خفیہ اطلاع پر کی گئی جس دورانعسکریت پسندوں کا ٹھکانا تباہ کیا گیا، اس کارروائی میں 11 مسلح افراد ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آرنے اپنے دعوے میں مزید کہا کہ ہلاک مسلح افراد سے اسلحہ، گولہ بارود اور بینک ڈکیتی کی لوٹی گئی رقم بھی برآمد کی گئی، یہ رقم 15 دسمبر 2025 کو پنجگور میں بینک ڈکیتی کے دوران لوٹی گئی تھی۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ ہلاک مسلح افراد ماضی میں متعدد عسکریت پسندانہ کارروائیوں میں ملوث رہے۔
حسب روایت آئی ایس پی آر نے ہلاک افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی ان کے حوالے سے مزید تفصیلات جاری کی ہیں جیسے ان کی لاشیں کہاں رکھی گئیں ؟یا ان کا تعلق کہاںاور کس تنظیم سے تھا ۔؟
ماضی میں اس طرح کے کئی جعلی کارروائیوں میں جبری لاپتہ افراد کو ماورائے عدالت قتل کرکے ان کی لاشیں پھینکی گئی ہیں۔
بلوچستان سمیت پاکستان بھر میں آئی ایس پی آر کی اس طرح کی جاری کردہ پریس ریلیز پر صحافتی و علمی حلقے شک و شبہات کو اظہار کرتی ہیں جس کا وہ زمینی حقائق جاننا چاہتے ہیں لیکن کنٹرول میڈیا آئی ایس پی آر کی محض پریس ریلیز پر اکتفا کرتی ہے اور مزید حقائق جاننے کی زحمت نہیں کرتی۔
معمول کے مطابق آئی آئی ایس پر اپنے کنٹرول میڈیا کو محض ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنی فوج کی کارکردگی دکھانے اور عوام کو بے وقوف بنانے کی روایتی طریقے کو جاری رکھے ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی اس طرح کی کارروائیوں کی پریس ریلیز کے بعد جبری لاپتہ افراد لواحقین کو شدیدتشویش لاحق ہوتی ہے کہ کہیں ان کے لاپتہ پیارے ماورائے عدالے قتل تو نہیں کئے گئے ۔؟