25 جنوری بلوچ نسل کشی یادگاری دن کے موقع پر کوہِ سلیمان کے علاقے تونسہ میں ایک پُرامن اور علامتی احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا، جس کا مقصد اُن متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا جو مبینہ طور پر کینسر، یورینیم مائننگ اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کے نتیجے میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
مظاہرے میں شرکا نے کینسر سے ہلاک افراد کی تصاویر پھولوں اور شمعوں کے ساتھ آویزاں کیں، جس نے اس یادگاری تقریب کو مزاحمت کی ایک پُرسکون مگر مؤثر علامت میں بدل دیا۔
مقررین نے کہا کہ ریاستی ایٹمی منصوبوں اور کارپوریٹ مفادات نے مقامی آبادی کو انسان نہیں بلکہ قابلِ استعمال وسائل سمجھ کر نظرانداز کیا ہے۔ قومی مفاد کے نام پر زمین کا استحصال، ماحول کی تباہی اور انسانی جانوں کا ضیاع جاری ہے، جبکہ جوابدہی کا کوئی نظام موجود نہیں۔
اگرچہ کوہِ سلیمان انتظامی طور پر پنجاب کا حصہ ہے، جو پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ صوبہ سمجھا جاتا ہے، لیکن بلوچ آبادی ہونے کے باعث یہ علاقہ شدید محرومی کا شکار ہے۔ یہاں مناسب اسپتال، تعلیمی ادارے اور بنیادی انفراسٹرکچر تک میسر نہیں۔ شرکا کے مطابق یہ محرومی حادثاتی نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا نتیجہ ہے۔
مظاہرے کا مرکزی پیغام واضح تھا کہ "کوہِ سلیمان میں ہر کینسر موت قدرتی نہیں، ریاستی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔”
شرکا نے اسے ریاستی بے حسی، ناانصافی اور ناکامی کی کھلی نشاندہی قرار دیا۔