اسرائیل وامریکا کا ایران پر ممکنہ حملہ: پروازیں منسوخ، مقابلے کیلئے پوری طرح تیار ہیں، ایران

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے آثار ہیں کہ اسرائیل اب بھی ایران پر حملہ کرنے کا موقع تلاش کر رہا ہے۔

ترک وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اس طرح کا اقدام خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر دے گا۔

جمعے کو ایک انٹرویو میں ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ وہ [اسرائیلی حکام] ایک مختلف راستہ اختیار کریں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں ہے۔‘

قبل ازیں ترک وزیر خارجہ نے ایران میں پیش رفت کے بارے میں انقرہ کے نقطہ نظر کے بارے میں کہا تھا کہ ترکی علاقائی استحکام اور سلامتی کا خیال رکھتا ہے اور ایران میں فوجی مداخلت کا مخالف ہے۔

ایران میں ملک گیر مظاہروں کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ایران میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا اثر ہم پر پڑتا ہے۔ اسی لیے ہم اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔‘

ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے بھی گذشتہ پیر کو کہا تھا: ’ہمارے پڑوسی ایران کو اسرائیلی حملے کے بعد اب سماجی بدامنی کے ایک نئے امتحان کا سامنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے ایرانی بھائی اس دور سے گزریں گے۔‘

ترک وزیر خارجہ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ’بڑے بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز‘ کے ساتھ ایران کے مسائل کو حل کرنا ترکی کے مفاد میں ہو گا۔

دوسری جانب کئی ایئر لائنز نے اعلان کیا ہے کہ اُنھوں نے سنیچر کو مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

ایئر فرانس، لفتھانسا، ایئر کینیڈا اور کے ایل ایم نیدرلینڈز کا کہنا ہے کہ وہ کم از کم اتوار تک اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں آپریٹ نہیں کریں گے۔

بی بی سی فارسی نے میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ پروازیں ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی تصادم کے امکان کے درمیان منسوخ کی گئی ہیں۔

اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل آئی 24 نیوز نے بھی ’ایئرپورٹ کی ویب سائٹس پر شائع ہونے والی پرواز کی معلومات‘ پر مبنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ رائل ڈچ ایئر لائنز اور سوئس نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب ایک سینئر ایرانی اہلکار نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کے سٹرائیک گروپ اور خطے میں دیگر امریکی فوجی سازو سامان کی آمد کے پیشِ نظر ایران کو ’مکمل جنگ‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق مذکورہ ایرانی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز سے گفتگو میں اُمید ظاہر کی کہ امریکی فوج کی نقل و حرکت کسی بڑے فوجی تصادم کا باعث نہیں بنے گی۔

لیکن اُن کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر چوکس ہے۔ تاہم اُنھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی حملے کی صورت میں ایران کا متوقع ردِعمل کیا ہو سکتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق طیارہ بردار امریکی بحری جہاز ابراہم لنکن اگلے چند روز میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے علاقے میں ہو گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ابھی ایران پر حملے کی حدود میں نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حال ہی میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ’عظیم طاقت‘ ایران کی جانب بڑھ رہ یہے۔ لیکن ’وہ کچھ نہ ہونے دینے کو ترجیح دیں گے۔‘ ساتھ ہی صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم انھیں بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔‘

خبر رساں ادارے روٹرز کے مطابق امریکی فوج ماضی میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے پیشِ نظر یہاں اپنی فوجی قوت میں اضافہ کرتی رہی ہے۔ امریکہ نے گذشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں سمیت خطے کے ممالک میں اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی اخبار ’ہارٹیز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر کے ایل ایم اور ایئر فرانس نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

اخبار کے مطابق گذشتہ ہفتے لفتھانسا گروپ نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے لیے رات کے وقت اپنی پروازیں معطل کر دے گا۔

Share This Article