ایران : مظاہروں میں ہلاک ہونے والے 3117 افراد میں سے 2427 شہید قرار

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ نے ملک میں حالیہ بدامنی کے دوران ہونے والے نقصانات سے متعلق تفصیلی جائزہ شائع کیا ہے۔

21 جنوری کو جاری کی گئی رپورٹ میں ایرنی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے بتایا کہ مظاہرین کی جانب سے 469 سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے اور انھیں آگ لگا کر مکمل تباہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ملک کے آٹھ صوبوں میں 702 بینک برانچز کو منہدم یا نذرِ آتش کیا گیا جبکہ 419 سپر مارکیٹس کو لوٹا گیا اور نذر آتش کیا گیا۔

ایران کے پولیس چیف بریگیڈیئر جنرل احمد رضا رادان نے کہا ہے ملک کے ’تمام صوبوں‘ میں گرفتاریاں جاری ہیں اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن تیزی سے جاری ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے پولیس چیف کے حوالے سے بتایا کہ مظاہروں کے پہلے روز سے ہی ’فسادات، بغاوت، لوٹ مار اور حتیٰ کہ قتل‘ میں ملوث افراد کو حراست میں لیا گیا۔

پولیس چیف نے اعلان کیا کہ شرپسندوں (مظاہرین) کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مظاہروں میں شامل آخری فرد کو بھی گرفتار نہ کر لیا جائے۔

ایجنسی کے مطابق بدامنی کے دوران پولیس کی 740 گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ 305 عوامی ٹرانسپورٹ بشمول بسوں اور ایمبولینسوں کو بھی شدید نوعیت کا نقصان پہنچایا گیا۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ مُلک میں ہونے والے ان حالیہ مظاہروں میں عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ان واقعات کے دوران 484 مساجد کو نقصان پہنچا یا انھیں آگ لگا دی گئی۔

رپورٹ میں ’سینکڑوں‘ دیگر گھروں اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

تہران کے میئر علیرضا ذکانی نے دارالحکومت میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 30 کھرب ریال لگایا۔

خبر رسان ادارے تسنیم کے مطابق وزارتِ انٹیلیجنس نے جنوبی صوبہ فارس کے متعدد شہروں میں 162 مبینہ ’فسادی رہنماؤں‘ کو گرفتار کیا ہے، جن پر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

ایجنسی کے مطابق زیرِ حراست افراد نے شیراز میں 20 بلدیاتی عمارتوں، 10 فائر بریگیڈ گاڑیوں، 18 ایمبولینسوں، 10 عوامی بسوں اور 47 مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا۔

وزارتِ انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران دو اے کے 47 رائفلیں، 840 گولیاں، پانچ پستول اور تین شکاری رائفلیں بھی برآمد کی گئی ہیں۔

ایران کی ’شہدا اور سابق فوجیوں کی فاؤنڈیشن‘ نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں حالیہ بدامنی کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی اکثریت کو ’شہید‘ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے کی خبر رساں ایجنسی آئی آر آئی بی نیوز نے فاؤنڈیشن کے اس بیان کو نشر کیا ہے۔

فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’کُل 3117‘ ہلاکتوں میں سے 2427 افراد جن میں عام شہری اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار دونوں شامل ہیں، ’دہشت گردانہ واقعات‘ کے نتیجے میں ’شہید‘ ہوئے۔

یاد رہے کہ ایران میں بدامنی کا آغاز 28 دسمبر کو قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور بگڑتی ہوئی معاشی حالت کے باعث ہوا تھا۔ یہ صورتحال جلد ہی ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو گئی جو آٹھ اور نو جنوری کو خاص طور پر شدت اختیار کر گئے۔

حکام نے ان مظاہروں کے جواب میں جنھیں انھوں نے ’مسلح دہشت گردوں‘ کی کارروائیاں قرار دیا، بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا اور مُلک میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا جس کے باعث ملک کے اندر سے آزادانہ رپورٹنگ اور قابلِ تصدیق معلومات کی ترسیل شدید طور پر محدود اور متاثر ہوئی۔

Share This Article