اورناچ اور بلیدہ میں مسلح کارروائیوں میں 3پاکستانی فوجی اہلکار اور ایک مخبر کوہلاک کیا، بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں اورناچ اور بلیدہ میں مسلح کارروائیوں میں 3 پاکستانی فوجی اہلکار اور ایک مخبر کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے اورناچ میں قابض پاکستانی فوج کو ایک حملے میں نشانہ بنایا جبکہ بلیدہ میں زیر حراست آلہ کار کے سزائے موت پر عمل درآمد کیا۔

انہوں نے کہاکہ خضدار کے علاقے اورناچ میں پندرہ جنوری کو بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے شاہراہ پر قابض پاکستانی فوج کی گاڑیوں کو گھات لگاکر حملے میں نشانہ بنایا، قابض فوج کی ایک گاڑی براہ راست حملے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں تین اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے پچیس دسمبر کو بلیدہ کے علاقے گلی سے نوید احمد ولد محمد ہاشم سکنہ بلیدہ گلی کو حراست میں لیا۔ نوید ہاشم نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ قابض فوج کے صوبیدار کی سرپرستی میں بطور مخبر کام کرتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوید ہاشم نے اعتراف کیا کہ دکاندار کے بھیس میں وہ سرمچاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا رہا ہے جبکہ بٹ، الندور اور زندان میں قابض فوج کے کیمپوں کیلئے راشن و دیگر سامان پہنچانے سمیت فوج کے کہنے پر جسم فروش خواتین کو ان کے کیمپوں میں لے جایا کرتا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ آلہ کار نوید ہاشم نے اعتراف کیا کہ وہ بلوچ نوجوانوں کی پروفائلنگ اور انہیں قابض فوج و نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں جبری گمشدہ کرنے میں بھی ملوث رہا ہے۔ اس کے عیوض قابض فوج کی جانب سے اسے پیسے دیئے گئے اور ٹوکن فراہمی کا وعدہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نوید ہاشم کو قومی غداری کے مرتکب ہونے پر بلوچ قومی عدالت نے سزائے موت سنائی جس پر سرمچاروں نے عملدرآمد کرکے اسے تربت کے علاقے پیری کہن میں ہلاک کردیا۔ نوید ہاشم نے کئی آلہ کاروں کے نام افشاں کیئے جو جلد ہی اپنی منطقی انجام کو پہنچیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی مذکورہ دونوں کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

Share This Article