آزادی کی تحریک، اجتماعی ذمہ داری اور خود احتسابی کی ضرورت | دلجان بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

آزادی کی کوئی بھی تحریک صرف نعروں، جذباتی تقریروں یا الزام تراشی سے کامیاب نہیں ہوتی۔ آزادی ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے، جو قربانی، شعور، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری مانگتی ہے۔ جب کوئی تحریک وقت کے ساتھ بکھرنے لگتی ہے، تنظیمیں کمزور ہو جائیں، کارکن بددل ہوں اور قیادت اعتماد کھونے لگے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ دشمن بہت طاقتور ہو گیا ہے، بلکہ اکثر اس کی وجہ اندرونی کمزوریاں ہوتی ہیں جنہیں نظر انداز کیا جاتا رہا ہو۔

تحریک سے وابستہ تنظیم کسی ایک فرد یا چند لیڈروں کی ملکیت نہیں ہوتی۔ یہ ان ہزاروں کارکنوں کے خون، پسینے اور خوابوں سے بنتی ہے جو خاموشی سے اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ مگر جب تنظیم کے اندر ہر خرابی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرایا جانے لگے، کارکن قیادت کو قصوروار سمجھیں، قیادت کارکنوں کو نااہل قرار دے، اور سب مل کر حالات کو موردِ الزام ٹھہرا دیں، تو تحریک اپنی روح کھو بیٹھتی ہے۔

آزادی کی جدوجہد میں کارکن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کارکن صرف حکم کے منتظر رہیں، خود سوچنا چھوڑ دیں اور ہر ناکامی کا ملبہ لیڈرشپ پر ڈال دیں تو یہ بھی ایک طرح کی بے عملی ہے۔ اسی طرح اگر قیادت خود کو ہر غلطی سے پاک اور ہر فیصلے میں درست سمجھنے لگے، اختلاف رائے کو غداری اور تنقید کو دشمنی سمجھا جائے، تو ایسی قیادت تحریک کو آگے نہیں لے جا سکتی۔

تنظیم کا اصل حسن نظم و ضبط، اعتماد اور باہمی احترام میں ہوتا ہے۔ جب تنظیمی ڈھانچہ کمزور ہو جائے، فیصلے مشاورت کے بجائے انا کی بنیاد پر ہوں، اور احتساب صرف نچلی سطح تک محدود رہے، تو تحریک اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے۔

الزام تراشی آزادی کی تحریک کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ یہ کارکن کو مایوس، لیڈر کو تنہا اور تنظیم کو تقسیم کر دیتی ہے۔ جو تحریک اپنے اندر غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ کھو دے، وہ بیرونی چیلنجز کا سامنا نہیں کر سکتی۔ خود کو مکمل طور پر درست اور دوسروں کو مکمل طور پر غلط سمجھنا دراصل فکری جمود کی علامت ہے، نہ کہ اصول پسندی کی۔

تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ تنظیم، کارکن اور قیادت تینوں اپنا اپنا کردار ایمانداری سے ادا کریں۔ قیادت کو سننے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا، کارکن کو سوال کرنے کے ساتھ ساتھ ذمہ داری اٹھانی ہوگی، اور تنظیم کو شخصیات کے بجائے اصولوں کے گرد منظم ہونا ہوگا۔ آزادی کی جدوجہد میں کوئی بھی فرد لاتعلق نہیں ہو سکتا، کیونکہ خاموشی بھی ایک فیصلہ ہوتی ہے، اور اکثر غلط فیصلہ۔

آزادی صرف ایک منزل نہیں بلکہ ایک مسلسل امتحان ہے۔ اس راستے پر چلنے والوں کو بار بار خود سے پوچھنا پڑتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، کہاں غلطی ہوئی، اور اسے درست کیسے کیا جا سکتا ہے۔ جو تحریک خود احتسابی کو کمزوری سمجھ لے، وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتی۔

آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تاریخ ان تحریکوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے مشکل وقت میں ایک دوسرے پر الزام نہیں لگایا بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما۔ جہاں کارکن نے قیادت کا بوجھ بانٹا، قیادت نے کارکن کی آواز سنی، اور تنظیم نے اختلاف کو طاقت بنایا۔ آزادی کی جدوجہد تب ہی کامیاب ہوتی ہے جب سب ایک ساتھ چلیں، ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے۔

***

Share This Article