بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے شالکوٹ تھانے کے ایس ایچ او خیر محمد کے ہاتھوں اغواء ہونے والت 2 افراد کو 47 دن بعد کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے کے دوران فائرنگ کرکے زخمی حالت میں منظرِ عام پر لایا گیاہے۔
مذکورہ واقعہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور شفافیت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق نوجوانوں کو فائرنگ کرکے زخمی کیا گیا، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
نوجوانوں کے جسموں پر تشدد اور گولیوں کے واضح نشانات موجود ہیں، جبکہ ان کے خون آلود کپڑے، بڑھی ہوئی داڑھی اور خستہ حالت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ انہیں طویل عرصے تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔
مذکورہ دونوں افراد کے اہلخانہ نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان پولیس اور شالکوٹ تھانے کے ایس ایچ او پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائیوں کو غیرقانونی طور پر حراست میں رکھ کر 47 روز تک لاپتہ رکھا گیا اور بعد ازاں کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کا ڈرامہ رچا کر فائرنگ کے ذریعے زخمی کیا گیا۔
پریس کانفرنس میں متاثرہ بھائی نے بتایا کہ 27 نومبر کو ان کے بھائیوں کو کوئٹہ سے اٹھایا گیا، جس کے بعد اہلِ خانہ نے مختلف تھانوں، ایف آئی اے اور ایس سی آئی ڈبلیو کے دفاتر کے چکر لگائے، تاہم پولیس کی جانب سے ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو غیرقانونی طور پر حراست میں رکھنا آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ 6 دسمبر کو بھائی کی جی ایل آئی گاڑی کوئٹہ میں ایس سی آئی ڈبلیو سے بیلف ٹیم کے ذریعے برآمد کی گئی، اس کے باوجود انہیں کو نہ تو عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی کسی مقدمے میں نامزد کیا گیا۔
متاثرہ بھائی کے مطابق جب انہوں نے اس غیرقانونی اقدام کے خلاف آواز بلند کی اور پریس کانفرنس کا اعلان کیا تو پولیس کی جانب سے انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس پولیس اہلکاروں کی دھمکیوں کی وائس ریکارڈنگز اور اسکرین شاٹس موجود ہیں، جو کسی بھی فورم پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعد ازاں کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلہ ظاہر کر کے ان کے بھائیوں کو فائرنگ سے زخمی کیا گیا، جو ان کے بقول ایک منصوبہ بند کارروائی معلوم ہوتی ہے تاکہ اصل حقائق کو چھپایا جا سکے۔
پریس کانفرنس میں متاثرہ خاندان نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، آئی جی پولیس بلوچستان، وفاقی محتسب اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ اس پورے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، ملوث پولیس افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر انہیں یا ان کے خاندان کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ پولیس افسران پر عائد ہوگی۔