ایران کے نمائندے نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران میں بد امنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سلامی کونسل کے اجلاس میں ایران کے مستقل مندوب کے معاون حسین درزی نے امریکی نمائندے کے الزامات کہ ایران نے مظاہرین پر تشدد کیا ہے کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا۔
انھوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ’اگر امریکہ واقعی بے گناہوں کی ہلاکت پر فکر مند ہے تو اسے منیسوٹا میں پولیس افسران کے ہاتھوں خاتون کے قتل پر توجہ دینی چاہیے۔‘
درزی نے مزید کہا کہ ’وہ ان شہریوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں جو گزشتہ دو ہفتوں میں ان کے بقول امریکہ اور اسرائیل کی سازش کے نتیجے میں ہلاک ہوئے، جن میں احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے سکیورٹی اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ایرانی سفیر کی تقریر کا زیادہ تر حصہ امریکہ سے متعلق تھا، جس کے کہنے پر سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ہو رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’احتجاجی مظاہروں کا رخ اور اس کے بعد ہونے والے خونریز واقعات دراصل امریکہ اور اسرائیل کی تحریک کا نتیجہ ہیں۔‘
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں امریکی نمائندے مائیک والٹز نے ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شمولیت کے الزامات عائد کیے۔
والٹز نے کہا کہ ’ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم کر رہا ہے، بالخصوص اپنے مسلح گروہوں کے ذریعے۔‘ ان کے مطابق ایران نے اپنی عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے جوہری اور میزائل پروگرام اور اپنے مسلح گروہوں کی حمایت کو ترجیح دی ہے، جس کے نتیجے میں عوام اب شدید دباؤ اور مشکلات کا شکار ہیں۔
امریکی نمائندے نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’عملی طور پر آگے بڑھنے پر یقین رکھتے ہیں، محض باتوں کی حد تک نہیں‘ اور یہ کہ ’ایران میں پرتشدد واقعات روکنے کے لیے تمام آپشنز اب بھی امریکی صدر کے سامنے موجود ہیں اور ایرانی حکام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔‘