ایرانی قیادت نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا، ملاقات سے پہلے کارروائی ممکن ہے،ٹرمپ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکہ نے مظاہرین کی ہلاکتوں کے معاملے پر ایران میں مداخلت کی دھمکی دی ہے، تاہم اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی قیادت نے ان سے رابطہ کیا ہے اور ’وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔‘

تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو ’ملاقات سے پہلے بھی کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے اس بات کی مزید وضاحت نہیں کی کہ امریکہ کن اقدامات پر غور کر رہا ہے، لیکن اتوار کو انھوں نے کہا کہ ’ہم کچھ نہایت سخت آپشنز پر غور کر رہے ہیں‘۔

سی بی ایس کو ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ فوجی حملوں کے آپشنز کے بارے میں بریفنگ دی جا چکی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل سے بات کرنے والے حکام کے مطابق دیگر ممکنہ اقدامات میں آن لائن حکومت مخالف ذرائع کو تقویت دینا، ایران کی فوج کے خلاف سائبر ہتھیاروں کا استعمال، یا مزید پابندیاں عائد کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

ادھر ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے میں امریکی فوجی اور بحری مراکز بھی جائز اہداف بن جائیں گے۔

اتوار کے روز تہران میں موجود ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ’یہاں حالات انتہائی خراب ہیں۔ ہمارے بہت سے دوست مارے جا چکے ہیں۔ سکیورٹی فورسز براہِ راست گولیاں چلا رہی تھیں۔ یہ جنگی علاقے جیسا منظر ہے، سڑکیں خون سے بھری ہوئی ہیں۔ لاشوں کو ٹرکوں میں ڈال کر لے جایا جا رہا ہے۔‘

امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی کا دعویٰ ہے ہے کہ ملک بھر میں 495 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کی بدامنی کے دوران مزید 10,600 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

Share This Article