سیاسی اور پُرامن راستے بند کرنے سے انتہاپسندی کی زمین ہموار ہوگی،نادیہ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے کہا ہے کہ جب ریاستِ پاکستان پُرامن سیاسی جدوجہد کے تمام راستے خود بند کرتی ہے تو وہ درحقیقت عوام کو مایوسی، بے بسی اور بالآخر تشدد کی طرف دھکیلتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک شعوری پالیسی کا عکس ہے۔

نادیہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان میں ایک ایسا طاقتور طبقہ موجود ہے جسے انہوں نے ’’جنگی منافع خور‘‘ قرار دیا، جو نہیں چاہتا کہ مسائل پُرامن طریقے سے حل ہوں۔ ان کے بقول تشدد میں اضافے سے ایسے عناصر کی اہمیت اور افادیت بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اقتدار، فنڈز اور اختیارات سے چمٹے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے پُرامن اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کے نوجوانوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ممکن ہے اور یہ کہ بندوق کے بغیر بھی ریاست کو للکارا جا سکتا ہے۔

نادیہ بلوچ کے مطابق ہزاروں نوجوان اسی امید کے تحت تشدد سے دور رہے کہ ایک سیاسی اور پُرامن راستہ موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا تو دراصل اس امید کو قید کر دیا گیا۔ ان کے بقول وہ تمام لوگ جو پُرامن سیاسی جدوجہد کو واحد حل سمجھتے تھے، آج شدید مایوسی کا شکار ہیں۔

نادیہ بلوچ نے کہا کہ جب ریاست اختلافِ رائے کو جرم، پُرامن احتجاج کو کچلنے اور سیاسی عمل کو ناممکن بنا دے تو وہ خود اپنے ہاتھوں سے انتہاپسندی کی زمین تیار کرتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر آنے والے دنوں میں نوجوان پُرامن سیاست سے بددل ہو جاتے ہیں، جس کے آثار تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں، تو اس کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان اور اس کی حکمران اشرافیہ پر عائد ہوگی، جنہوں نے بلوچ نوجوانوں کے لیے سیاسی اور پُرامن راستے خود بند کیے ہیں۔

Share This Article