جبری گمشدگیوں کا عالمی دن: یورپ میں مظاہرے اور سوشل میڈیا مہم چلائی جائے گی۔ بی این ایم

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ہزاروں لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرکے انہیں خفیہ اذیت گاہوں میں رکھا ہے۔ ہزاروں نوجوانوں کو ان اذیت گاہوں میں ہولناک اذیت رسانی سے شہید کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں جنگلوں، ویرانوں، پہاڑوں، ندیوں اور سڑک کناروں میں پھینک دئیے گئے ہیں یا جعلی مقابلوں میں قتل کرکے لاشیں مقامی انتظامیہ کے حوالے کی ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان سے ملنے والی اجتماعی قبریں ہیں جن سے سینکڑوں مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ 

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کے سنگین انسانی المیہ پر عالمی اداروں، بین الاقوامی برادری، مغربی طاقتوں اور ہمسایہ ممالک کی خاموشی نے پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کو انسانی حقوق کی پامالی میں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ اس خاموشی کو پاکستان ایک استثنیٰ کے طور پر استعمال کر رہا ہے جو اس نے بنگلہ دیش میں استعمال کی تھی۔

انہوں نے کہا بلوچستان سے آج بھی ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔ اگر کچھ خوش قسمت لوگ جنہیں رہا کردیا گیا ہے، انہیں ذہنی و جسمانی تشددکے علاوہ اس قدر خوف میں مبتلا کردیا گیا ہے کہ وہ اور ان کے اہلخانہ اپنی بات بھی دنیا کے سامنے نہیں رکھ سکتے۔  بلوچ نیشنل موومنٹ کے بانی رہنما و صدر شہید غلام محمد بلوچ، پارٹی کے سینئر رہنما شہید لالا منیر بلوچ اور بی آر پی کے مرکزی رہنما شہید شیر محمد بلوچ کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں شہادت کے واقعے کے بعد سے بلوچستان میں بلوچوں کی نسل کشی میں ایک نئی تیزی آئی ہے جو تاحال جاری ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اوربلوچ نسل کشی سے یہاں باقاعدہ انسانی المیہ جنم لے چکاہے۔ بلوچ سیاسی رہنماؤں، طلبا رہنماؤں اور بلوچ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو لاپتہ کرنا نہ صرف معمول بن چکا ہے بلکہ اس میں روز بہ روز اضافہ ہورہاہے۔ آج پاکستان کے زندانوں میں پارٹی کے سینئررہنما ڈاکٹر دین محمد بلوچ، غفور بلوچ، ذاکر مجید بلوچ، رمضان بلوچ، زاہد بلوچ، شبیر سمیت ہزاروں لوگ اذیت سہہ رہے ہیں۔

بی این ایم ترجمان نے کہا کہ ہم بحیثیت بلوچ قومی پارٹی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ دنیا کو اس ظلم و جبر کے بارے میں آگاہی فراہم کریں۔ اسی حوالے سے جرمنی، نیدرلینڈ اور یونان سمیت دوسرے ممالک میں احتجاجی مظاہرہ اور آگاہی مہم کا اہتمام کیا جائے گا۔ اسی طرح تیس اگست کو لندن میں بلوچ سندھی فورم کے تحت ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جائیگا۔

ہم بلوچ کمیونٹی سمیت انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ ان احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرکے ہماری آواز بن کر اپنا قومی و انسانی فریضہ پورا کریں۔ سوشل میڈیا صارفین سے اپیل ہے کہ جبری گمشدگی کے عالمی دن کے موقع پر

#DisappearancesInBalochistan

کا ہیشٹیگ استعمال کرکے ہماری آواز کو عالمی ایوانوں میں پہنچانے میں ہماری مدد کریں۔

Share This Article
Leave a Comment