امریکی شہر منیپولس میں خاتون کی ہلاکت کے بعد مظاہرے جاری ، 29 افراد گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکہ کے شہر منیپولس میں امیگریشن اہلکار کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت کے بعد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس نے اس دوران 29 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

مظاہروں کے دوران ایک پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

منیپولس پولیس نے جمعے کی شب لوگوں کو جمع ہونے پر پابندی عائد کی تھی، تاہم اس دوران سینکڑوں مظاہرین کینوپی ہوٹل کے باہر جمع ہو گئے، جہاں خیال کیا جا رہا تھا کہ امیگریشن ایجنٹس وہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق کچھ افراد نے ایک گلی کے داخلی راستے سے ہوٹل میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی۔

آن لائن پوسٹ کی گئی متعدد ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین علاقے میں موبائل فون کی لائتیں آن کر کے سیٹیاں اور ڈھول بجا رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق علاقے میں ایک ہزار سے زائد مظاہرین موجود تھے اور کچھ نے پولیس اہلکاروں اور اُن کی گاڑیوں کی طرف برف کے گولے پھینکے۔

بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق، ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار کو معمولی چوٹیں آئیں لیکن اسے کسی طبی امداد کی ضرورت نہیں تھی۔

مقامی میڈیا میں 37 سالہ رینی نکول گڈ کے نام سے شناخت کی جانے والی خاتون کو بالکل قریب سے (پوائنٹ بلینک رینج) اس وقت گولی ماری گئی جب وہ بظاہر ان ایجنٹوں سے گاڑی بھگا کر دور جانے کی کوشش کر رہی تھیں جنھوں نے ان کی کار کو گھیر رکھا تھا۔

واقعہ بدھ کی صبح مقامی وقت کے مطابق 10:25 بجے پیش آیا۔

واقعے کی فوٹیج میں ایک نقاب پوش امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) ایجنٹ کو ہونڈا ایس یو وی میں تین بار گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر کھڑی گاڑیوں سے ٹکراتی دیکھی گئی جبکہ خوفزدہ عینی شاہدین وفاقی افسران کو ٹوکتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ویڈیو میں مظاہرین سڑک کے کنارے موجود ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑیاں قریب دکھائی دیتی ہیں۔

اس واقعے کے بعد سے شہر بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ شہر کے ڈیموکریٹک میئر جیکب فری نے امیگریشن اہلکاروں سے شہر چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔

Share This Article