امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں کہ جس کے تحت واشنگٹن 66 بین الاقوامی تنظیموں، کنونشنز اور معاہدوں سے دستبردار ہو جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ان اداروں میں مسلسل شمولیت کو ملک کے ’مفادات کے منافی‘ قرار دیا گیا ہے۔
یہ حکم نامہ بدھ کے روز جاری کیا گیا، جس میں 35 غیر اقوامِ متحدہ کی تنظیمیں اور 31 اقوامِ متحدہ سے منسلک ادارے شامل ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر امریکی صدر کے اس فیصلے سے متعلق کہا گیا ہے کہ امریکہ جن تمام 66 بین الاقوامی تنظیموں، کنونشنز اور معاہدوں سے دستبردار ہونے جا رہا ہے وہ مُلک کے لیے ’غیر مؤثر، فضول اور نقصان دہ‘ تھیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ ادارے اپنی حدود میں غیر ضروری، ناقص انتظام، فضول خرچی اور کمزور کارکردگی کے حامل ہیں۔ ان اداروں کو ایسے عناصر نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا جو امریکی ترجیحات کے خلاف ہیں۔
انتظامیہ نے مزید کہا ہے کہ ’یہ ادارے ملک کی خودمختاری، آزادی اور خوشحالی کے لیے خطرہ ہیں۔‘
تاہم امریکی صدر نے کہا کہ ’اب یہ قابلِ قبول نہیں کہ امریکی عوام کا پیسہ ان اداروں کو دیا جائے جس کے بدلے میں کچھ حاصل نہ ہو۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ ’امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر غیر ملکی مفادات کی نذر کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔‘
وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ یہ اقدام انتظامیہ کی ’امریکہ فرسٹ‘ پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ’آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی میمورنڈم پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکہ ان 66 بین الاقوامی تنظیموں سے دستبردار ہو رہا ہے جو اب امریکی مفادات میں نہیں۔‘
ایگزیکٹو آرڈر کے تحت صدر ٹرمپ نے تمام وفاقی محکموں اور ایجنسیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ دستبرداری کے اس فیصلے کو جلد از جلد نافذ کیا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ کے اداروں سے دستبرداری کا مطلب شرکت یا فنڈنگ ختم کرنا ہوگا۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ وزیرِ خارجہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے جائزے اور کابینہ کے ارکان سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔