پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی چینی وزیر داخلہ وانگ ژاو ہونگ کے ساتھ آج بیجنگ میں ملاقات میں انسداد دہشت گردی، پولیس ٹریننگ ایکسچینج پروگرام اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے چین کی وزارت پبلک سکیورٹی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا جہاں پاک چین وزرائے داخلہ کے درمیان ساڑھے تین گھنٹے طویل ملاقات رہی۔
ملاقات میں مشترکہ ورکنگ گروپ کی ہر تین ماہ بعد میٹنگ پر اتفاق سمیت پاک چین دوطرفہ تعلقات۔ انسداد دہشت گردی سے متعلق مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت داخلہ کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے کوآرڈینیشن بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
چینی وزیر داخلہ نے چینی شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت کے اقدامات پر اطمینان کا اظہارکیا اور وزیر داخلہ محسن نقوی اور انک ی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔
چینی وزیر داخلہ نے انسداد دہشت گردی اور داخلی سکیورٹی سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
چینی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی اور جرائم کے خلاف مشترکہ و فوری ردعمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا اور پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے ٹریننگ ایکسچینج پروگرام کا دائرہ کار بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ’چینی شہریوں اور مشترکہ مفادات کے منصوبوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ پاکستان میں چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے ہر سطح پر مضبوط اقدامات کیے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے اسلام آباد میں خصوصی پروٹیکشن یونٹ بنا رہے ہیں ۔سائبر کرائمز کی روک تھام کیلئے چینی تعاون کا خیر مقدم کریں گے۔‘
چینی وزیر داخلہ نے پاکستانی ہم منصب محسن نقوی کو ستمبر میں چین میں ہونے والے گلوبل سکیورٹی تعاون فورم میں شرکت کی دعوت دی۔
یاد رہے کہ چینی شہریوں پربلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے متعدد حملوں اور جانی نقصانات کے پیش نظر چین پاکستانی فوج کی فراہم کردہ سیکورٹی سسٹم کو ناکارہ قرار دے چکی ہے اور اسے درست اور موثر بنانے کے لئے پاکستان پر مسلسل دبائو ڈال رہا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ محسن نقوی کا حالیہ دورہ چین، 30 نومبر کو بلوچستان کے علاقے نوکنڈی میں سیندک اور ریکوڈک پروجیکٹ کے مرکزی کیمپ پر بلوچ عسکریت پسندوں کے حملے میں بھاری تعداد میں چینی انجینیئرز اور ورکرز کی ہلاکت کے سلسلے کی کڑی ہے ۔
مذکورہ حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف) نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے اسپیشل دستہ "سدو آپریشنل بٹالین (سوب) کے سرمچاروں نے نوکنڈی حملے میں سیندک و ریکوڈک پراجیکٹس کے غیر ملکی ملازمین سمیت 76 فوجی اہلکار ہلاک کئے اور 6 سرمچار بھی شہید ہوئے۔
حملے کا آغاز خاتون فدائی حملہ آور زرینہ بلوچ نے بارود سے بھڑی گاڑی کو مین گیٹ سے ٹکراکر کیا جس کے بعد دیگر 5 سرمچار کیمپ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔