اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کے روز وینزویلا میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ وینزویلا پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
اقوامِ متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں اس وقت اجلاس منعقد کیا جب مادورو کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
اپنے بیان میں گوتریس نے کہا کہ ’مجھے ملک میں ممکنہ طور پر عدم استحکام میں شدت، اس کے خطے پر ممکنہ اثرات اور ریاستوں کے باہمی تعلقات کے حوالے سے قائم ہونے والی مثال پر گہری تشویش ہے۔‘
جبکہ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ امریکہ نے ’امریکی فوج کی معاونت سے ایک محدود اور قانون نافذ کرنے کی کارروائی‘ کے ذریعے دو مفرور ملزمان کو گرفتار کیا جن میں مادورو اور ان کی اہلیہ شامل ہیں۔
والٹز نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وینزویلا یا اس کے عوام کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہے۔ ہم کسی ملک پر قبضہ نہیں کر رہے۔‘
اقوامِ متحدہ میں وینزویلا کے سفیر نے مادورو کو پکڑنے کی امریکی کارروائی کو ’ایک غیر قانونی مسلح حملہ‘ کہا جس کی ’قانونی توجیہ موجود نہیں۔‘
اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق رکن ممالک کو بین الاقوامی تعلقات میں کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنا چاہیے۔
امریکہ نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا ہے جس کے تحت کسی رکن ملک پر مسلح حملے کی صورت میں انفرادی یا اجتماعی دفاع کے فطری حق کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔
روس، چین اور کولمبیا نے امریکی فوجی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ غیر مستقل رکن پاکستان سمیت سلامتی کونسل کے دیگر ارکان نے براہِ راست امریکہ پر تنقید کرنے کے بجائے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔
اقوامِ متحدہ میں روسی سفیر نے کہا کہ ’وہی ممالک جو دیگر مواقع پر اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں پر چیختے چلاتے نظر آتے ہیں، آج اصولی موقف اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں جو خاصی منافقت کا مظہر ہے۔‘
قابلِ ذکر ہے کہ اقوامِ متحدہ نے خود روس کو 2022 میں یوکرین پر حملے کی وجہ سے مذمت کا نشانہ بنایا تھا۔
کولمبیا، جس نے پیر کے روز ہونے والے اجلاس کی درخواست دی تھی، نے امریکی کارروائی کو وینزویلا کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ روس، چین اور وینزویلا نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو رہا کرے۔
تاہم امریکہ کو سلامتی کونسل کے ذریعے کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی پر جوابدہ نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ سلامتی کونسل میں امریکہ کو روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ویٹو کا اختیار حاصل ہے، جس کے ذریعے وہ کسی بھی کارروائی کو روک سکتا ہے۔