کولمبیا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔
اتوار کی شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو ذہنی ’بیمار‘ قرار دیا، ان پر کوکین تیار کرنے اور اسے امریکہ بھیجنے کا الزام لگایا اور یہ بھی کہا کہ ان کے پاس اقتدار میں زیادہ وقت باقی نہیں بچا ہے۔
درحقیقت پیٹرو کی مدتِ صدارت میں صرف چھ ماہ باقی ہیں۔ کولمبیا میں صدارتی انتخابات مئی میں ہوں گے اور پیٹرو دوبارہ انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کا اشارہ اس حقیقت کی طرف تھا یا کولمبیا اور پیٹرو کے خلاف ممکنہ اقدامات کی طرف تھا۔
گستاوو پیٹرو کا جواب البتہ بالکل واضح تھا۔ کئی گھنٹوں تک نسبتاً محتاط لہجہ اختیار کرنے کے بعد انھوں نے کہا کہ اگرچہ انھوں نے اپنے ماضی کی گوریلا جدوجہد کے بعد دوبارہ ہتھیار نہ اٹھانے کی قسم کھائی تھی، لیکن ’وطن کے لیے‘ وہ ان ہتھیاروں کو دوبارہ اٹھا سکتے ہیں جنھیں وہ اٹھانا نہیں چاہتے تھے۔
ٹرمپ اور پیٹرو کے درمیان امگریشن، انسدادِ منشیات کی پالیسی اور وینیزویلا میں واشنگٹن کی فوجی کارروائیوں پر بارہا تکرار ہوا۔
یہ نوک جھونک دونوں تاریخی اتحادی ممالک کے درمیان شدید اور غیر معمولی سفارتی بحرانوں کا باعث بنی ہیں۔
دونوں رہنماؤں کے تازہ بیانات کی شدت نے محتاط حلقوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔