استعمار (قابض) محض مقبوضہ قوم کی زمین، وسائل اور جغرافیے پر ہی قبضہ نہیں کرتا، بلکہ اس کے ذہن، سوچ اور شعور کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہ قبضہ صرف عسکری یا جسمانی نوعیت کا نہیں ہوتا، بلکہ گہرے طور پر بیانیاتی (Discursive) اور فکری ہوتا ہے۔ استعمار اپنے تسلط کو مستحکم کرنے کے لیے نفسیاتی، سماجی اور سیاسی حربوں کا ایک منظم جال بچھاتا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے بیانیے کو واحد سچ (Only Truth) کے طور پر مسلط کرتا ہے۔استعمار کو کسی قوم کی زمین یا جغرافیے پر فوجی قبضے تک محدود کرنا ایک سطحی اور ناقص فہم ہے۔ اس کی اصل اور گہری نوعیت ذہن، سوچ، شعور اور اجتماعی ادراک پر قبضے سے عبارت ہے۔ یہ تسلط عسکری طاقت سے کم اور زبان، علم، قانون، تعلیم، میڈیا اور نفسیات کے ذریعے زیادہ قائم کیا جاتا ہے۔ بائیں بازو کے مفکرین اس نکتے پر متفق ہیں کہ نوآبادیاتی نظام اپنی بقا کے لیے سب سے پہلے مقبوضہ قوم کے خود فہم (Self-Understanding) کو مسخ کرتا ہے، تاکہ وہ خود کو کمتر، محتاج اور نااہل سمجھنے لگے۔استعمار اپنی حکمرانی کو جائز ثابت کرنے کے لیے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتا ہے جس میں وہ خود کو مہذب، نجات دہندہ، امن پسند اور ریاستی نظم و ضبط کا محافظ ظاہر کرتا ہے، جبکہ مقبوضہ قوم کو وحشی، پسماندہ، تشدد پسند اور انتشار کا منبع بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر جب مقبوضہ قوم کی آزادی کی جدوجہد ابھرتی ہے اور وہ تاریخی استرداد (Historical Rejection) کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے، تو استعمار کا یہ مصنوعی بیانیہ شدید بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب استعمار اپنے انسانی، اخلاقی اور قانونی نقاب اتار کر کھلے عام جبر، تشدد اور مجرمانہ حربوں پر اتر آتا ہے۔ اپنے قبضے کو برقرار رکھنے اور اپنے بیانیے کو درست ثابت کرنے کے لیے وہ تمام انسانی، اخلاقی اور قانونی ضابطوں کو پامال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ اس مقام پر استعمار اکثر ایک کھلے مجرمانہ نظام کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔استعمار کا ایک مستقل اور آزمودہ ہتھیار یہ ہے کہ وہ آزادی کی تحریک کو دہشت گردی، فتنہ، بغاوت یا بیرونی سازش کے طور پر پیش کرتا ہے۔ آج "فتنہ الہندوستان” جیسی اصطلاحات اسی نوآبادیاتی لغت کی ایک مکروہ اور گمراہ کن شکل ہیں۔ ان اصطلاحات کے ذریعے قابض قوت آزادی کی جدوجہد کے فطری، تاریخی اور اخلاقی جواز پر مسلسل بیانیاتی حملہ کرتی ہے، جبکہ ریاستی تشدد کو "قانونی”، "ناگزیر” اور "نام نہاد قومی سلامتی” کے نام پر جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد نوآبادی عوام میں خوف، شکوک، سماجی انتشار اور ذہنی خلفشار پیدا کرنا ہوتا ہے۔اسی طرح، جبری گمشدگی جیسے سنگین اور مہلک جنگی جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ جبری طور پر گمشدہ افراد بیرونِ ملک روپوش ہیں، مسلح محاذوں پر چلے گئے ہیں، یا پھر انہیں "غلط عناصر” نے بہکا دیا ہے۔ یہ تمام ریاستی بیانیے دراصل استعماری جرم سے انکار (Denial of State Crime) کی مختلف صورتیں ہیں، جن کے ذریعے نہ صرف جرم کو چھپایا جاتا ہے بلکہ مقبوضہ کو ہی مشکوک اور مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ نوآبادیاتی ریاست کا میڈیا محض اطلاع رسانی کا ذریعہ نہیں رہتا، بلکہ وہ استعمار کے ڈھانچے کا ایک فعال پرزہ بن جاتا ہے۔ اس کا بنیادی پیشہ زمینی حقائق کو منکشف کرنا نہیں، بلکہ ریاستی بیانیے کو فطری، اخلاقی اور ناگزیر حقیقت کے طور پر پیش کرنا ہوتا ہے۔ مقبوضہ اقوام کی مزاحمت کو یا تو جرم بنا کر دکھایا جاتا ہے، یا اسے ذاتی مفادات اور بیرونی طاقتوں سے جوڑ کر اس کی اخلاقی حیثیت مسخ کی جاتی ہے۔جبری گمشدگیاں نوآبادیاتی ریاست کا ایک منظم اور سوچا سمجھا ہتھیار ہیں، مگر اس سے بھی زیادہ خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب جبری طور پر غائب کیے گئے افراد کا میڈیا ٹرائل شروع کیا جاتا ہے۔ ایسے افراد کا نہ تو اوپن ٹرائل کیا جاتا ہے، نہ ان پر عائد الزامات، شواہد یا قانونی طریقۂ کار کی کوئی وضاحت کی جاتی ہے، بلکہ میڈیا کے ذریعے انہیں پہلے ہی مجرم، دہشت گرد یا غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر پیش کر دیا جاتا ہے۔عثمان قاضی، ماہل بلوچ، اور حال ہی میں کراچی میں ایک خاتون کا کیس سٹڈی ، اس طرزِ عمل کی چند نمایاں مثالیں ہیں۔ یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ کس طرح جبری گمشدگی کے بعد میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے متاثرہ افراد کی کردارکشی، ٹرولنگ اور عوامی سطح پر مجرم سازی کی جاتی ہے۔ اینکرز، ٹاک شوز اور سیکیورٹی بیانیے کے نمائندے ریاستی اسکرپٹ کے مطابق ان افراد کو اسکرین پر لا کر پیش کرتے ہیں، تاکہ عوامی رائے کو قابض کے حق میں ہموار کیا جا سکے۔اسی طرح قابض قوت بلوچ قومی تحریک کے خلاف ایک منظم تہرے تاثر کی حکمتِ عملی (Triple Narrative Strategy) اختیار کرتی ہے، جس کے تحت مختلف گھڑے ہوئے بیانیے پھیلائے جاتے ہیں، جیسے:”غریبوں کے بچے لڑ رہے ہیں”،”قیادت باہر عیاشیاں کر رہی ہے”،یا "یہ جنگ محض فنڈنگ کے لیے لڑی جا رہی ہے”۔
ان بیانیوں کے ذریعے تحریکِ آزادی کے اندر طبقاتی شکوک، اخلاقی انحطاط اور بداعتمادی کا تاثر پیدا کیا جاتا ہے۔ بلوچ تحریک کو طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی لاحاصل کوشش کرتے ہوئے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ جدوجہد چند محروم اور نادان نوجوانوں کے جذباتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ مزید یہ کہ ایک مجرمانہ ذہنیت کے ساتھ یہ خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جو لوگ تحریکِ آزادی کی قیادت کر رہے ہیں وہ محفوظ اور آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ قربانیاں صرف عام لوگ دے رہے ہیں۔اس پورے بیانیاتی عمل کے ذریعے بلوچ تحریکِ آزادی کی اخلاقی، اصولی اور سیاسی جدوجہد سے انکار کیا جاتا ہے اور اسے مالی مفادات کی جنگ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں تحریک کے نظریاتی، تاریخی اور قومی پہلو کو پس منظر میں دھکیل کر اور اسے محض ایک کاروبار یا کرائم انٹرپرائز ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قومی آزادی کی ہر منظم تحریک کثیرالجہتی ہوتی ہے اور وہ محض کسی ایک خطے یا ایک ہی طرزِ جدوجہد تک محدود نہیں رہتی۔ جبر، ریاستی تشدد اور نوآبادیاتی قبضے کے مقابلے میں آزادی کی تحریکیں وقت، حالات اور مواقع کے مطابق مختلف محاذ قائم کرتی ہیں۔ ان محاذوں میں جلاوطنی (Exile)، بیرونی سفارتی و سیاسی محاذ (External Front)، اور اندرونی سطح پر سیاسی، فکری اور مسلح جدوجہد بیک وقت شامل ہوتی ہیں۔ بلوچ تحریکِ آزادی بھی اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہے، جسے کسی وقتی، حادثاتی یا غیر فطری عمل کے طور پر نہیں بلکہ ایک منظم قومی جدوجہد کے طور پر سمجھنا ناگزیر ہے۔دنیا کی بڑی قومی آزادی کی تحریکوں کا مطالعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ جلاوطنی محض مجبوری یا فرار کا نام نہیں، بلکہ جدوجہد کی ایک مؤثر اور بامعنی صورت رہی ہے۔ آئرش قومی تحریک میں بیرونِ ملک سیاسی تنظیم کاری نے برطانوی ریاست پر دباؤ بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ افریقی اور ایشیائی نوآبادیات میں آزادی کی تحریکوں نے جلاوطنی کے دوران نظریاتی، سفارتی اور تنظیمی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
جلاوطنی دراصل اسی لمحے جنم لیتی ہے جب قابض ریاست قومی سیاسی عمل، آزادیٔ اظہار اور منظم عوامی سیاست کے تمام راستے مسدود کر دیتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں جدوجہد کا ایک اہم حصہ ڈائسپورا اور سفارتی محاذ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ ہر قومی آزادی کی تحریک کے لیے بیرونی محاذ اس لیے بھی ناگزیر ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی ریاست اپنی طاقت، وسائل اور میڈیا کے ذریعے مقبوضہ قوم کے بیانیے کو مسخ کر دیتی ہے۔ اس تناظر میں عالمی دنیا تک رسائی محض ہمدردی حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہوتی، بلکہ اپنی جدوجہد کو درست تاریخی، سیاسی اور اخلاقی سیاق و سباق میں پیش کرنے کا عمل بن جاتی ہے۔بلوچ تحریکِ آزادی کے بیرونی محاذ پر سرگرم حلقے بلوچ وطن پر قبضے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور بلوچ نسل کشی کے سوالات کو عالمی فورمز پر اجاگر کرتے ہیں۔ یہ تصور کہ بیرونی محاذ یا جلاوطنی کی سیاست اندرونی جدوجہد سے کٹی ہوئی ہوتی ہے، ایک غلط اور گمراہ کن فہم ہے۔ بیرونی محاذ قومی آزادی کی تحریک کے فطری مراحل کا ایک اٹوٹ حصہ ہوتا ہے؛ یہ دونوں دراصل ایک ہی جدوجہد کے دو رخ ہیں۔
بلوچ تحریک میں بھی یہی ربط واضح طور پر موجود ہے۔ جب بلوچ وطن میں سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں کو ریاستی جبر، تشدد اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو بیرونِ ملک موجود آوازیں ان مظالم کو دستاویزی شکل دیتی ہیں، انہیں عالمی سطح پر اجاگر کرتی ہیں اور نوآبادیاتی ریاست کے بیانیے کو چیلنج کرتی ہیں۔قومی آزادی کی تحریک کو محض ایک طرزِ عمل یا ایک ہی محاذ میں قید کرنا، دراصل اس کی روح، وسعت اور تاریخی معنویت کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔
یہ تمام حربے دراصل نوآبادیاتی بیانیاتی تشدد (Colonial Discursive Violence) کی مختلف شکلیں ہیں۔ جسمانی تشدد فرد کو ختم کرتا ہے، مگر بیانیاتی تشدد پوری قوم کے شعور، تاریخ اور اجتماعی نفسیات پر ضرب لگاتا ہے۔ ایسے بیانیاتی حملوں کے ذریعے ریاست بلوچ سماج کے اندر کنفیوژن، مایوسی اور فکری انتشار پیدا کرنے کی منظم کوشش کرتی ہے۔ اس تناظر میں لازم ہے کہ ہم نہ صرف ان ریاستی چالبازیوں کو سمجھیں بلکہ انہیں فکری اور اخلاقی سطح پر بے نقاب کر کے ان کے منہ پر کالک کی طرح مل دیں۔یہ تمام حربے مقبوضہ قوم کی جدوجہد کو غیر اخلاقی، غیر فطری اور غیر جائز ثابت کرنے کی ایک نوآبادیاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، تاکہ استعمار نہ صرف اپنے تسلط کو دوام دے سکے بلکہ مقبوضہ کی مزاحمت کو خود اسی کے خلاف جرم بنا کر پیش کر سکے۔جیسا کہ ابتدا میں واضح کیا گیا، استعمار اپنے تشدد کو محض طاقت کے اظہار تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ اسے ایک منظم، حساب شدہ اور علامتی حربے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ جبری گمشدگیاں اسی استعماری منطق کی ایک انتہائی مہلک اور جدید صورت ہیں، جو بلوچ قومی تحریک کے تناظر میں ایک مکمل colonial weapon کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔
بلوچ قوم، جو طویل عرصے سےقابض ریاست کے جبر کا شکار رہی ہے، اب تاریخ کے اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں وہ اپنی تقدیر کو ازخود متعین کرنے کی آرزو کے ساتھ میدانِ عمل میں اتر چکی ہے۔ یہ جدوجہد کسی وقتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں، بلکہ کلاسیکی نیشنلزم کے فکری خطوط پر استوار ایک شعوری قومی تحریک ہے، جس کی جڑیں قومی آزادی کی بحالی کے اصول میں پیوست ہیں۔ یہی شعوری عنصر قابض ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔استعماری ریاست بخوبی جانتی ہے کہ کسی قوم کو فکری، نفسیاتی اور اخلاقی طور پر توڑنا عسکری شکست سے کہیں زیادہ مؤثر اور دیرپا حکمتِ عملی ہوتی ہے۔ جبری گمشدگی اسی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون ہے۔ یہ محض افراد کو غائب کرنے کا عمل نہیں، بلکہ پورے معاشرے کو عدمِ تحفظ، خوف اور مستقل غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کرنے کا ایک منظم طریقہ ہے۔ گمشدہ فرد محض ایک جسم نہیں ہوتا؛ وہ ایک بیٹا، ایک بیٹی ایک باپ، ایک ماں ایک طالبِ علم، ایک سیاسی کارکن اور ایک فکری امکان ہوتا ہے۔ اس کی گمشدگی کے ساتھ پورا سماج اجتماعی اذیت (Collective Trauma) کا شکار ہو جاتا ہے۔
یہاں اگر جبری گمشدگی کو انسانی حقوق کی زبان میں محض ایک خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جائے تو یہ اس کی سیاسی اور استعماری ماہیت کو محدود کر دینے کے مترادف ہوگا۔ بلوچ تحریک کسی سول رائٹس موومنٹ یا اصلاحی جدوجہد کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک قومی آزادی کی تحریک ہے، اور اسی حیثیت سے ریاستی جبر کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ استعمار ہمیشہ مقبوضہ قوم کی جدوجہد کو depoliticize کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ اصل تنازع یعنی قبضہ اور قومی نجات پس منظر میں چلا جائے۔ جبری گمشدگیاں اسی depoliticization کا ایک مؤثر آلہ ہیں، جن کے ذریعے سیاسی کارکن کو “غائب ” کر کے خود سیاسی سوال کو ہی غائب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔استعماری تشدد کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی نمائشی وحشت (Spectacular Violence) ہے، جس کے ذریعے خوف کو اجتماعی شعور میں ثبت کیا جاتا ہے اور مزاحمت کو نفسیاتی طور پر مفلوج کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔استعمار کے پاس نہ تہذیب ہوتی ہے، نہ انسانیت، اور نہ ہی کوئی حقیقی اخلاقی جواز۔ وہ اپنی برتری اور قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے وحشت کو معمول بنا دیتا ہے، یہاں تک کہ خوف ایک سماجی نظم کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ جبری گمشدگی میں یہی نمائشی عنصر (Spectacular Element) کارفرما ہوتا ہے۔
تاہم تاریخ کا ایک بنیادی سبق یہ ہے کہ جب جبر حد سے تجاوز کر جاتا ہے تو وہ مزاحمت کو ختم نہیں کرتا، بلکہ اسے نئی اور زیادہ شعوری شکل عطا کرتا ہے۔ بلوچ خاک نشینوں کی موجودہ جدوجہد اسی تاریخی منطق کا تسلسل ہے۔ جبری گمشدگیاں تحریک کی کمزوری نہیں بلکہ استعمار کی کمزوری کی علامت ہوتی ہیں۔ ایک ریاست جب اپنے قبضے کے اخلاقی جواز سے محروم ہو جاتی ہے تو وہ اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے لاشوں اور گمشدگیوں کا سہارا لیتی ہے۔جبری گمشدگیاں کوئی نیا ریاستی ہتھکنڈا نہیں، بلکہ نوآبادیاتی نظامِ اقتدار کا ایک گہرا اور پائیدار ورثہ ہیں، جو صدیوں سے قابض قوتوں کے ہاتھ میں ایک مؤثر استعماری ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس عمل کو محض انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے دائرے میں محدود کرنا اس کی تاریخی، سیاسی اور نظریاتی ساخت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ درحقیقت، جبری گمشدگی حملہ آور اور قابض ریاستوں کی وہ قدیم حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے وہ نہ صرف مزاحمت کو مفلوج کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ مقبوضہ سماج کے قانونی، اخلاقی اور وجودی ڈھانچے کو بھی منہدم کر دیتے ہیں۔
یورپی نوآبادیاتی قوتیں خصوصاً برطانیہ، فرانس، اسپین اور پرتگال نے اپنی سامراجی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے محض عسکری طاقت پر انحصار نہیں کیا، بلکہ تشدد کو ایک ادارہ جاتی، قانونی اور بیانیاتی نظام میں ڈھال دیا۔ نوآبادیاتی ریاست کی اصل قوت اس کی بندوق میں نہیں، بلکہ اس صلاحیت میں مضمر تھی کہ وہ قانون کو معطل کر کے بھی خود کو قانونی ثابت کر سکے۔ اسی تناظر میں Legal Void (قانونی خلا) اور State Invisibility (ریاستی غیر مرئیت) جیسے تصورات سامنے آئے، جو استعمار کے قبضے کے بنیادی ستون بنے۔
قانونی خلا سے مراد وہ کیفیت ہے جس میں ریاست براہِ راست قانون کی موجودگی سے انکار نہیں کرتی، بلکہ اسے اس انداز سے معطل کر دیتی ہے کہ قانون بظاہر موجود رہتا ہے مگر عملاً غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، کسی مقبوضہ فرد کو جبری طور پر غائب کرنے کے بعد ریاست ایک طرف اس کے وجود سے لاعلمی کا اظہار کرتی ہے، تو دوسری طرف کمیشن قائم کر دیتی ہے اور ایک منظم منصوبے کے تحت اس کے کیس کے نمائشی ٹرائل بھی چلاتی ہے۔ اس طرح قانون نہ مکمل طور پر نافذ رہتا ہے اور نہ ہی مکمل طور پر ختم ہوتا ہے۔نوآبادیاتی ریاست کے لیے یہی قانونی خلا نہایت کارآمد ہوتا ہے، کیونکہ اس میں ریاست کو جواب دہی سے عملی استثنا حاصل ہو جاتا ہے۔ جبری گمشدگی اسی خلا کی سب سے سفاک اور مؤثر پیداوار ہے۔ اس عمل میں نہ گرفتاری کو تسلیم کیا جاتا ہے، نہ لاش فراہم کی جاتی ہے، اور نہ ہی کسی جرم، الزام یا قانونی کارروائی کا واضح ذکر کیا جاتا ہے۔ریاستی غیر مرئیت (State Invisibility) اس عمل کو مزید گہرا اور پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ نوآبادیاتی ریاست مسلسل اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ اسے علم نہیں، وہ ذمہ داری قبول نہیں کرتی، اور خود کو ایک غیر شخصی، غیر موجود قوت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ غیر مرئیت دراصل طاقت کی سب سے چالاک اور مہلک صورت ہے۔ جبری گمشدگی میں ریاست بیک وقت ہر جگہ موجود بھی ہوتی ہے اور کہیں اپنی موجود گی سے لاتعلقی ظاہر کرتی ہے اور یہی تضاد اسے ایک انتہائی مہلک استعماری ہتھیار بنا دیتا ہے۔
جبری گمشدگی کا سب سے گہرا اور دیرپا اثر یہ ہے کہ وہ فرد کو محض جسمانی طور پر نہیں، بلکہ قانونی اور سماجی سطح پر بھی معدوم کر دیتی ہے۔ گمشدہ شخص نہ زندہ شمار ہوتا ہے، نہ مردہ؛ نہ اس پر مقدمہ چلتا ہے اور نہ ہی اسے بے گناہ قرار دیا جاتا ہے۔ وہ ایک معلق وجود بن جاتا ہے، اور یہی معلقیت نوآبادیاتی تشدد کی اصل روح ہے۔ اس کے ذریعے ریاست پورے سماج کو یہ پیغام دیتی ہے کہ مزاحمت کی قیمت صرف موت نہیں، بلکہ شناخت، حیثیت اور وجود کا مٹ جانا بھی ہو سکتی ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو برطانوی نوآبادیاتی نظام نے آئرلینڈ، کینیا اور ہندوستان میں؛ فرانسیسی استعمار نے الجزائر میں؛ اور ہسپانوی و پرتگالی قوتوں نے لاطینی امریکہ اور افریقہ میں اسی منطق کے تحت گمشدگی، خفیہ حراست اور نامعلوم انجام کو ریاستی پالیسی کے طور پر اپنایا۔ مقصد ہمیشہ ایک ہی رہا: مزاحمت کو صرف کچلنا نہیں، بلکہ اسے ناقابلِ بیان اور ناقابلِ شناخت بنا دینا، کیونکہ جو تشدد بیان نہ ہو سکے وہ تاریخ میں بھی پوری طرح درج نہیں ہو پاتا۔
اسی لیے جبری گمشدگی کو محض ایک انسانی حقوقی مسئلہ قرار دینا، دراصل نوآبادیاتی ریاست کے حق میں ایک غیر شعوری رعایت بن جاتا ہے۔ انسانی حقوق کا بیانیہ عموماً فرد پر مرکوز ہوتا ہے، جبکہ جبری گمشدگی ایک اجتماعی ریاستی حملہ ہوتی ہے، جو پورے سماج کو خوف، بے یقینی اور دائمی اضطراب کے شکنجے میں جکڑ دیتی ہے۔ یہ نوآبادیاتی اقتدار کی وہ خاموش زبان ہے جو بغیر بولے سب کچھ کہہ دیتی ہے۔درحقیقت، جبری گمشدگیاں استعمار کے اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہیں۔ یہ حربہ ہمیشہ ان قوتوں کے پاس رہا ہے جو اپنے قبضے کو اخلاقی، قانونی یا سیاسی طور پر جائز ثابت کرنے سے قاصر رہی ہوں۔ چاہے یہ الجزائر کی آزادی کی تحریک کے دوران ہو، ہندوستان میں برطانوی راج کے زمانے میں، یا لاطینی امریکہ کے بعد از نوآبادیاتی تجربات میں جبری گمشدگیاں محض انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بلکہ نوآبادیاتی اور استعماری حکمرانی کا ایک منظم اور آزمودہ ہتھیار رہی ہیں، جو قابض قوتوں نے اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور مزاحمت کو کچلنے کے لیے بارہا استعمال کیا ہے۔
الجزائر میں 1954ء سے 1962ء تک جاری قومی آزادی کی تحریک کے دوران فرانسیسی فوج نے جبری گمشدگی کو ایک باضابطہ ریاستی پالیسی کے طور پر اختیار کیا۔ اس پالیسی کا مقصد محض سیاسی مخالفین یا مسلح مزاحمت کاروں کو ختم کرنا نہیں تھا، بلکہ پورے الجزائری سماج کو خوف، عدمِ تحفظ اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کرنا تھا۔ الجزائری نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور سماجی تنظیم کاروں کو باقاعدہ اغوا کیا گیا، لاشیں غائب کر دی گئیں، اور ان کی عدم موجودگی کو ریاستی طاقت اور تسلط کے مظاہرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔فرانسیسی نوآبادیاتی پالیسی اس عمل میں ریاستی غیر مرئیت (State Invisibility) اور قانونی خلا (Legal Void) کے اصولوں پر قائم تھی، جہاں نہ گرفتاری کو قانونی حیثیت دی گئی، نہ کسی عدالتی کارروائی کی گئی، اور نہ ہی کسی جرم کا باضابطہ اعتراف کیا گیا۔ یوں تشدد کو قانون کے دائرے سے باہر رکھتے ہوئے بھی ریاستی اختیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔اسی طرح 1857ء کی مزاحمت کے بعد برطانوی سامراج نے ہندوستان میں سیاسی کارکنوں، انقلابیوں اور دانشوروں کے خلاف بغیر مقدمہ اغوا، طویل قید اور خفیہ حراست کو ایک معمول کی حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا۔ سیاسی اور فکری مزاحمت کو خاموش کرنے کے لیے ریاست نے قانونی اور اخلاقی حدود کو پامال کیا، اور افراد کو نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا، جہاں نہ سماجی رابطہ ممکن تھا اور نہ ہی کسی قانونی دستاویز یا عدالتی نگرانی کا وجود۔
نوآبادیاتی اقتدار کے یہی طریقے بعد ازاں لاطینی امریکہ میں بھی دہرائے گئے۔ ارجنٹینا، چلی اور گوئٹے مالا میں “Desaparecidos” (غائب شدگان) کی پالیسی دراصل نوآبادیاتی طرزِ اقتدار کا ہی تسلسل تھی، جو امریکی سامراجی اثرات کے تحت نئے سیاسی اور عسکری ڈھانچوں میں منتقل ہوئی۔بلوچستان میں جبری گمشدگیاں محض انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے دائرے میں محدود نہیں کی جا سکتیں۔ اگر انہیں صرف ایک سطحی ہیومن رائٹس ایشو کے طور پر دیکھا جائے تو یہ مسئلہ اپنی تاریخی، سیاسی اور سماجی گہرائی کھو دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جبری گمشدگی ایک مکمل نوآبادیاتی ہتھیار (Colonial Weapon) ہے، جسے بلوچ سماج، قومی شعور اور سیاسی مزاحمت کو منظم اور دانستہ طور پر توڑنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔یہ عمل صرف افراد کے جسمانی وجود کو ختم نہیں کرتا، بلکہ قانونی، سماجی اور نفسیاتی سطح پر پورے معاشرے کو ایک مستقل اجتماعی صدمے (Collective Trauma) میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جو آواز اٹھاتا ہے، وہ غائب ہو جاتا ہے؛ جو سوال کرتا ہے، اس کی شناخت معطل کر دی جاتی ہے۔ مائیں احتجاجی کیمپوں میں بیٹھ کر اپنے بچوں کی واپسی کے لیے صبر آزما جدوجہد کرتی ہیں، اور پورا سماج خوف، عدمِ تحفظ اور غیر یقینی کیفیت میں جکڑ جاتا ہے۔
بلوچ تحریک آزادی پاکستانی ریاست کے اندر حقوق کے حصول کی اصلاحی جدوجہد نہیں، بلکہ ایک واضح قومی آزادی کی تحریک (National Liberation Movement) ہے۔ اس تناظر میں جبری گمشدگیاں پاکستانی ریاست کی سو کالڈ انتظامی سیکورٹی کا مسئلہ نہ ہی محض انسانی حقوق کا مسئلہ ، ۔ اس عمل کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ بلوچستان کو ایک پاکستانی انتظامی اکائی کے بجائے ایک مقبوضہ قومی خطے کے طور پر دیکھا جائے، جہاں ریاستی جبر ایک نوآبادیاتی منطق تکنیک کے تحت بروئے کار لایا جا رہا ہے۔، جو بلوچ قوم کی تاریخی شناخت اور آزادی کو سلب کرنے کے لے بروئے کار لائی جا رہی ہیں۔ جبری گمشدگیوں کو صرف انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر دیکھنے سے مسئلہ کی اصلیت اور اس کے تاریخی و سیاسی پہلو چھپ جاتے ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ بلوچ خطے میں ریاستی جبر اور نوآبادیاتی قبضہ کی حقیقت کو سمجھنا ناگزیر ہے۔
یہاں انسانی حقوق کا بیانیہ اپنی حدود کو چھو لیتا ہے۔ اگرچہ جبری گمشدگیاں بلاشبہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں، مگر مقبوضہ بلوچ مملکت کے تناظر میں یہ اس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ یہ ایک قومی وجود پر حملہ ہے۔ انسانی حقوق کا فریم فرد کو مرکز بناتا ہے، جبکہ بلوچستان میں جبری گمشدگی پورے بلوچ قوم کو اجتماعی طور پر سزا دینے کا طریقہ ہے۔بلوچ تحریک کا محور قومی آزادی، زمین، وسائل اور تاریخی شناخت کی بحالی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ قابض ریاست جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت تشدد اور مسلسل عسکری آپریشنز کو اپنا بنیادی ہتھیار بناتی ہے۔ انسانی حقوق کی روایتی زبان میں اس مسئلے کو سمجھنا، نہ صرف بلوچ جدوجہد کی نوعیت کو مسخ کرتا ہے بلکہ اس کے سیاسی، تاریخی اور نوآبادیاتی فریم ورک کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔۔ یہی وہ منطق ہے جو بلوچ قوم کی جدوجہد کو عالمی انسانی حقوق کی فریم ورک سے الگ اور ایک مکمل قومی آزادی کی تحریک کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔بلوچستان میں جبری گمشدگیاں صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی یا ریاستی تشدد کا ایک معمولی مظہر نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک سلطانی گواہ (Sovereign Witness) کی حیثیت رکھتی ہیں، جو خود قابض پاکستانی بیانیے کے خلاف زندہ دلیل بن جاتی ہیں۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے غیر فطری قبضے کو قانونی اور اخلاقی طور پر جائز ثابت کرنے کے لیے مقبوضہ قوم کے افرادکو غائب کرتی ہے، وہ دراصل اپنی کمزوری، غیر فطری قبضے اور شکست کی تاریخی حقیقت ک خود ہی و بے نقاب کرتی ہے۔
٭٭٭