اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایرانی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو فوری خط لکھا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو مداخلت پسند قرار دیا ہے۔
خط میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیاں ایران کے خلاف ’مسلسل دباؤ اور مداخلت کے ایک واضح نمونے‘ کی عکاس ہیں جنھیں ایرانی عوام کی حمایت کے بہانے جاری رکھا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر موجود خط کے عکس کے مطابق ’کسی دوسرے ملک کے اندر براندازانہ یا پرتشدد سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی یا حمایت بین الاقوامی قانون کے تحت ایک غیرقانونی عمل ہے اور اس کی ذمہ دار مداخلت کرنے والی ریاست قرار پاتی ہے۔
ایران کے نمائندے نے زور دیا کہ ’ایسی دھمکیاں، چاہے کسی بھی سیاسی جواز کے تحت دی جائیں، بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر ممنوع ہیں۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ بیرونی دباؤ یا فوجی مداخلت کے بہانے اندرونی بدامنی کو بھڑکانا، حوصلہ افزائی کرنا یا اسے قانونی حیثیت دینے کی کوئی بھی کوشش اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘
یاد رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف کئئ روز سے جاری مظاہروں کے بعد جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران ’پُرامن مظاہرین کو قتل کرے گا تو امریکا ان کی مدد کے لیے آگے بڑھے گا۔‘
تاہم ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے اسے ایران کے اندرونی معاملات میں ’براہِ راست مداخلت‘ قرار دیا تھا۔
ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ لگ بھگ پانچ روز قبل شروع ہوا تھا ۔ مظاہرین اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ پانچ روز میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں چھ مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات تھیں۔