بلوچستان کے ضلع گوادر کے تحصیل شہر پسنی کے ساحل پر ایک اور سبز کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا ہے، جس کے بعد رواں ماہ گوادر کے ساحلی علاقوں میں سبز کچھوؤں کی اموات کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
دسمبر کے مہینے میں یہ پسنی کے ساحل پر مردہ ملنے والا چوتھا سبز کچھوا ہے، جبکہ گوادر کے پدی زر ساحل سے دو سبز کچھوؤں کے خول بھی برآمد ہوئے ہیں۔
یوں دسمبر کے دوران گوادر، پسنی اور ملحقہ ساحلی علاقوں میں مجموعی طور پر چھ سبز کچھوے مردہ حالت میں پائے جا چکے ہیں، جو ایک ہی مہینے میں غیر معمولی اور تشویش ناک تعداد سمجھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ پسنی، گوادر اور اورماڑہ کے ساحلی علاقے سبز کچھوؤں کی افزائشِ نسل کے اہم مراکز ہیں، جہاں ہر سال یہ کچھوے انڈے دینے کے لیے ساحلوں کا رخ کرتے ہیں۔
ماہرینِ آبی حیات کے مطابق ایک ماہ کے اندر اتنی بڑی تعداد میں سبز کچھوؤں کی اموات سنگین ماحولیاتی خطرے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اب تک چھ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، تاہم اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ عوامی آگاہی کی کمی کے باعث ایسے کئی واقعات رپورٹ نہیں ہو پاتے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ تاحال اس امر کی باقاعدہ تحقیق نہیں کی گئی کہ ایک ہی مہینے میں سبز کچھوؤں کی بڑی تعداد کیوں ہلاک ہو رہی ہے، حالانکہ ماضی میں یہ ساحلی علاقے ان کے لیے محفوظ تصور کیے جاتے تھے۔ مسلسل مردہ کچھوؤں اور خولوں کی برآمدگی ماحولیاتی نظام کے لیے خطرے کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔