سیاست کی ریاضیاتی منطق: نظریہ، تربیت اور قومی جدوجہد | رامین بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
21 Min Read

(سفیر بلوچ کی تربیتی نشست کی روشنی میں)

سفیر بلوچ گزشتہ تین دہائیوں سے بلوچ قومی تحریک اور نظریاتی سیاست سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ وہ حق توار سرکل کے باضابطہ اور سرگرم رکن رہے ہیں اور ایک طویل عرصے سے قومی آزادی کی عملی جدوجہد میں متحرک کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔ وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے سابق مرکزی سیکریٹری جنرل بھی رہ چکے ہیں۔ غالباً 2005ء میں انہوں نے بی این پی کی اتحادی طلبہ تنظیم سے استعفیٰ دے کر اُس وقت کی آزادی پسند اور متحرک تنظیم بی ایس او (متحدہ) میں شہید علی شیر کرد کے ہمراہ شمولیت اختیار کی۔ چند برس بعد وہ زیرِ زمین چلے گئے اور بالآخر جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔

تعلیمی اعتبار سے وہ انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں انہوں نے بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) میں باضابطہ شمولیت اختیار کر کے ایک عوامی اور ہمہ گیر سیاسی جماعت کے ساتھ عملی رفاقت کا آغاز کیا ہے۔ اسی تناظر میں، حال ہی میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے ادارۂ تعلیم و تربیت کے زیرِ اہتمام ’’پارٹی کارکنان کی فعالیت اور نظریاتی وابستگی‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک تربیتی نشست سے انہوں نے سیرحاصل اور فکرانگیز گفتگو کی۔

سفیر بلوچ کی یہ گفتگو محض اعداد و شمار، تجریدی مباحث، سطحی تجزیوں یا نعرہ بازی تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ ایک آزادی دوست سیاسی جماعت کے کارکنان کے لیے بنیادی صداقت، ٹھوس اور مستند حقیقت، اور سیاست کی ریاضیاتی منطق (Political Mathematics) کا ناگزیر اور لازمی جزو تھی۔ ان کے خیالات نظریاتی پختگی، عملی شعور اور تاریخی تجربے کا نچوڑ تھے، جو قومی آزادی کی جدوجہد میں سنجیدہ سیاست کے تقاضوں کو واضح اور مدلل انداز میں پیش کرتے ہیں۔

سفیر بلوچ کے نزدیک ایک سیاسی کارکن کی اولین شرط، اس کی بنیادی پہچان اور اس کی سچائی کا معیار اس کی نظریاتی وابستگی ہے۔ وہ سیاست کو محض وقتی سرگرمی، انتخابی حکمتِ عملی یا طاقت کے حصول کا ذریعہ نہیں سمجھتے، بلکہ اسے ایک ہمہ گیر فکری و اخلاقی عمل تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک سیاست کی اصل کیمسٹری کارکن اور نظریے کے درمیان قائم اس شعوری ربط میں مضمر ہے جو فرد کو اجتماعی مقصد سے جوڑتا ہے اور ذاتی مفاد کو قومی نصب العین میں تحلیل کر دیتا ہے۔

سفیر بلوچ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ سیاسی قوت کی تعمیر کا سفر کسی وقتی ردِعمل، جذباتی جوش یا مصلحتی شمولیت سے طے نہیں ہوتا۔ یہ ایک طویل، صبر آزما اور نظریاتی جدوجہد ہے، جس کی بنیاد قومی جماعت کے فکری ڈھانچے، تاریخی شعور، سیاسی فلسفے اور واضح نصب العین پر استوار ہوتی ہے۔ ایک کارکن کی وابستگی محض تنظیمی رکنیت تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے فکری، جذباتی اور عملی سطح پر قومی تحریک کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق، وہ شمولیت جو وقتی حالات، ذاتی فائدے یا سیاسی موسم کے زیرِ اثر ہو، نہ تو پائیدار ہوتی ہے اور نہ ہی کسی انقلابی تحریک کو مضبوط کر سکتی ہے۔ حقیقی سیاسی وابستگی وہ ہے جو شعوری انتخاب، نظریاتی یقین، اور مقصد کی وضاحت سے جنم لے۔ یہی وابستگی کارکن کو قربانی، استقامت اور مزاحمت کے راستے پر ثابت قدم رکھتی ہے، اور یہی عنصر کسی قومی جماعت کو محض ایک تنظیم کے بجائے ایک تاریخی قوت میں تبدیل کرتا ہے۔

سفیر بلوچ کی فکر میں سیاست، اخلاقیات اور مزاحمت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ان کے نزدیک ایک نظریاتی کارکن ہی وہ اکائی ہے جو قومی جدوجہد کو وقتی سیاست کے بھنور سے نکال کر تاریخی تسلسل اور انقلابی سمت عطا کر سکتی ہے۔ اسی شعوری وابستگی کے ذریعے سیاست، طاقت کی کشمکش سے نکل کر آزادی، وقار اور اجتماعی نجات کے سفر میں ڈھلتی ہے۔

سفیر بلوچ کے نزدیک سیاسی شعور کا آغاز اسی لمحے ہوتا ہے جب کوئی فرد کسی سیاسی جماعت کے نظریات کو محض پڑھتا نہیں بلکہ انہیں سمجھتا، جذب کرتا اور اپنے سماج کی اجتماعی حالت پر منطبق کرتا ہے۔ جب وہ کسی جماعت کی فکری اساس، تاریخی پس منظر اور منشور کو جان لیتا ہے، اور ان میں اپنے معاشرے کے لیے امید، نجات اور تبدیلی کا واضح راستہ دیکھتا ہے، تو اس کے اندر ایک گہرا اور دیرپا رشتہ تشکیل پاتا ہے۔ یہی رشتہ اسے ایک عام شہری کی حیثیت سے اٹھا کر ایک باشعور، فعال اور ذمہ دار سیاسی کارکن میں تبدیل کر دیتا ہے۔

نظریاتی وابستگی، سفیر بلوچ کی فکر میں، محض تنظیمی رکنیت یا رسمی وابستگی کا نام نہیں۔ یہ ایک مسلسل فکری اور جذباتی عمل ہے جو فرد کے شعور، طرزِ فکر اور عملی رویّے کو نئی سمت عطا کرتا ہے۔ ایک نظریاتی کارکن نہ صرف جماعت کے مؤقف کا دفاع کرتا ہے بلکہ اسے اپنے عمل، رویّے اور قربانی کے ذریعے جیتا ہے۔ یہی وابستگی اس کے اندر تحریک، یقین اور وفاداری کا ایسا تسلسل پیدا کرتی ہے جو وقتی ناکامیوں، اندرونی اختلافات اور بیرونی دباؤ کے باوجود متزلزل نہیں ہوتا۔

مزاحمتی سیاست کے تناظر میں، سفیر بلوچ اس امر کو مرکزی اہمیت دیتے ہیں کہ نظریہ ہی وہ قوت ہے جو کارکن کو ریاستی جبر، سیاسی تنقید، سماجی تنہائی اور ذاتی نقصان کے مقابلے میں ثابت قدم رکھتی ہے۔ جہاں مفاد پر مبنی سیاست دباؤ کے سامنے جھک جاتی ہے، وہاں نظریاتی سیاست استقامت، قربانی اور تسلسل کے ذریعے اپنی بقا اور اثر پذیری کو یقینی بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی آزادی کی جدوجہد میں نظریاتی وابستگی کسی فرد کی ذاتی شناخت سے بڑھ کر اجتماعی شعور کی علامت بن جاتی ہے۔

سفیر بلوچ کے مطابق، ایک نظریاتی کارکن تحریک کا محض جزو نہیں ہوتا بلکہ وہ خود تحریک کا متحرک شعور ہوتا ہے۔ اس کی وفاداری اشخاص، عہدوں یا وقتی حکمتِ عملیوں سے نہیں بلکہ مقصد، نصب العین اور تاریخی جدوجہد سے جڑی ہوتی ہے۔ اسی شعوری وابستگی کے ذریعے سیاست محض ردِعمل سے نکل کر ایک انقلابی اور مزاحمتی قوت میں ڈھلتی ہے، جو نہ صرف موجودہ حالات کو چیلنج کرتی ہے بلکہ مستقبل کی سمت بھی متعین کرتی ہے۔

سفیر بلوچ نے سیاسی کارکن کی پہلی اور بنیادی پہچان کو نظریاتی وابستگی قرار دے کر سیاست کے اس بنیادی اصول کو ازسرِنو واضح کیا ہے جسے نوآبادیاتی ریاستیں، جابرانہ نظام اور مصلحت پسند سیاست دان دانستہ طور پر کمزور کرتے ہیں۔

یہ نکتہ نہایت اہم ہے کیونکہ موجودہ دور میں سیاست کو اکثر مفاداتی گروہ بندی، کیریئرزم اور طاقت کے حصول کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ اس ماحول میں نظریاتی وابستگی پر زور دینا بذاتِ خود ایک مزاحمتی عمل ہے۔ نظریہ کارکن کو ہر مشکلات مین ثابت قدم رکھتا ہے۔ یہی وابستگی اسے عام شہری سے ایک سیاسی فاعل (Political Subject) میں تبدیل کرتی ہے۔

سفیر بلوچ کے نزدیک کسی بھی سیاسی جماعت کی حقیقی اور پائیدار طاقت محض اس کے منشور کی تحریروں یا قیادت کے پرجوش بیانات سے تشکیل نہیں پاتی، بلکہ اس کا اصل سرچشمہ کارکنوں کی فکری، عملی اور تنظیمی تربیت میں مضمر ہوتا ہے۔ وہ اس تصور کو یکسر مسترد کرتے ہیں کہ نعرے، علامتیں یا وقتی عوامی مقبولیت کسی جماعت کو دیرپا سیاسی قوت میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ ان کے نزدیک وہ جماعتیں جو اپنے کارکنوں کو نظریاتی بصیرت، عملی مہارت اور تنظیمی شعور سے لیس نہیں کرتیں، وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتی ہیں اور سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتی ہیں۔

سفیر بلوچ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ تربیت سے محروم کارکن نہ صرف سیاسی میدان میں غیر مؤثر ہو جاتے ہیں بلکہ لاشعوری طور پر جماعت کی ساکھ، نظم و ضبط اور اجتماعی تشخص کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسا کارکن وقتی حالات کے زیرِ اثر آ کر انتشار، مایوسی یا پسپائی کا شکار ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے پاس نظریاتی استقامت اور تنظیمی فہم کی وہ بنیاد موجود نہیں ہوتی جو مشکل حالات میں رہنمائی فراہم کرے۔ چنانچہ ایک غیر تربیت یافتہ کارکن، خواہ نیت کتنی ہی مخلص کیوں نہ ہو، تحریک کے لیے بوجھ بن سکتا ہے۔

مزاحمتی اور انقلابی سیاست کے تناظر میں، تربیت محض ایک ضمنی سرگرمی نہیں بلکہ جدوجہد کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ قومی آزادی کی تحریکیں اسی وقت مؤثر اور ناقابلِ شکست بنتی ہیں جب ان کے کارکن تاریخی شعور، سیاسی فہم، تنظیمی نظم اور عملی حکمتِ عملی سے آگاہ ہوں۔ تربیت ہی وہ عمل ہے جو کارکن کو ردِعمل کی سیاست سے نکال کر شعوری، منظم اور طویل المدتی جدوجہد کے قابل بناتی ہے۔

اسی لیے ہر سنجیدہ، نظریاتی اور عوامی سیاسی جماعت کارکنوں کی علمی، فکری اور تنظیمی تربیت کو اپنی مجموعی حکمتِ عملی کا بنیادی جزو قرار دیتی ہے۔ سفیر بلوچ کے مطابق، جو جماعت تربیت کو نظرانداز کرتی ہے وہ درحقیقت اپنی سیاسی بقا، عوامی اعتماد اور تاریخی کردار کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ اس کے برعکس، وہ جماعت جو تربیت کو مسلسل، منظم اور نظریاتی بنیادوں پر استوار کرتی ہے، نہ صرف سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرتی ہے بلکہ ایک مضبوط، باوقار اور انقلابی قوت کے طور پر ابھرتی ہے

سفیر بلوچ ماضی کی طلبہ سیاست کی مثال دیتے ہوئے اس دور کو بلوچ قومی شعور کی تربیت گاہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب وہ خود طلبہ سیاست سے وابستہ تھے، تو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کا کارکن اپنی فکری بلوغت، سماجی شعور، علم دوستی اور سیاسی بصیرت کی بنیاد پر ہر محفل میں نمایاں نظر آتا تھا۔ یہ نمایاں پن کسی شور، جذباتی نعروں یا ظاہری نمائشی سرگرمی کا نتیجہ نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کے پیچھے مسلسل مطالعہ، نظریاتی تربیت اور شعوری سیاست کارفرما ہوتی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر سو افراد پر مشتمل کسی محفل میں بھی بی ایس او کا ایک کارکن موجود ہوتا تو اس کا اندازِ فکر، استدلال کی قوت، گفتگو کا وقار اور بات کا وزن اسے خود بخود ایک الگ شناخت عطا کر دیتا تھا۔ وہ محض ایک سرگرم نوجوان نہیں بلکہ ایک باشعور فرد، مؤثر سیاسی فکر رکھنے والا کارکن اور سماجی آگہی کا حامل انسان بن کر ابھرتا تھا۔ اس کی گفتگو ردِعمل پر مبنی نہیں بلکہ مشاہدے، تجربے اور دلیل کی بنیاد پر ہوتی تھی، جو سننے والوں کو سوچنے پر مجبور کر دیتی تھی۔

سفیر بلوچ کے مطابق، اس دور کا بی ایس او کارکن مطالعے کو اپنی سیاسی زندگی کا لازمی جزو سمجھتا تھا۔ تاریخ، سیاست، فلسفہ، ادب اور قومی سوالات اس کی فکری غذا ہوتے تھے۔ وہ صرف موجودہ حالات پر ردِعمل ظاہر نہیں کرتا تھا بلکہ تاریخی تسلسل کو سمجھنے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ یہی مسلسل غور و فکر اس کی سوچ کو جذباتیت سے نکال کر شعوری سیاست کی سطح پر لے آتا تھا۔

انقلابی اور مزاحمتی سیاست کے تناظر میں، سفیر بلوچ اس مثال کو ایک معیار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایک نظریاتی کارکن کی پہچان اس کی تنظیمی وابستگی سے زیادہ اس کی فکری گہرائی، سماجی شعور اور دلیل پر مبنی موقف سے ہوتی ہے۔ جب طلبہ تنظیمیں تربیت، مطالعہ اور نظریاتی مکالمے کو اپنی بنیاد بناتی ہیں تو وہ محض احتجاجی پلیٹ فارم نہیں رہتیں بلکہ قومی جدوجہد کے لیے باشعور قیادت پیدا کرتی ہیں۔

سفیر بلوچ کی یہ یاد دہانی دراصل آج کی سیاست کے لیے ایک فکری تنبیہ بھی ہے کہ اگر سیاسی تحریکیں اپنے کارکنوں کی علمی و فکری تربیت کو نظرانداز کریں گی تو وہ مزاحمت کے بجائے محض ردِعمل کی سیاست تک محدود ہو جائیں گی۔ اس کے برعکس، وہ تحریکیں جو مطالعہ، تنقیدی شعور اور نظریاتی استقامت کو فروغ دیتی ہیں، تاریخ میں اپنا اثر چھوڑتی ہیں اور اجتماعی شعور کو نئی سمت عطا کرتی ہیں۔

سفیر بلوچ کے نزدیک ایک سیاسی کارکن کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وہ جدوجہد کے بنیادی مقاصد، تنظیمی ذمہ داریوں اور اصولی راستے سے کبھی انحراف نہ کرے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سیاسی جدوجہد محض انفرادی اظہارِ رائے کا میدان نہیں بلکہ ایک منظم، اجتماعی اور مقصدی عمل ہے، جس میں کارکن کی ذاتی سوچ کو قومی نصب العین اور تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہوتا ہے۔
سفیر بلوچ آزاد سوچ اور وسیع نظریے کو ایک سیاسی کارکن کی بنیادی خوبی تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، تنقیدی شعور، سوال اٹھانے کی صلاحیت اور فکری وسعت ہی وہ عناصر ہیں جو سیاست کو جمود سے نکال کر ارتقا کی طرف لے جاتے ہیں۔ تاہم وہ اس بات کی بھی واضح حد بندی کرتے ہیں کہ جب یہی آزاد خیالی اس مقام تک پہنچ جائے جہاں کارکن اپنے مقصد، اصول اور اجتماعی راستے سے بے تعلق ہونے لگے، تو یہ آزادی ترقی کے بجائے نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔
ان کے مطابق بے لگام ذہنی آزادی، جو نظریے، نظم و ضبط اور تنظیمی وابستگی سے کٹ جائے، بالآخر نظریاتی کمزوری کو جنم دیتی ہے۔ یہ کمزوری تنظیمی انتشار، باہمی بداعتمادی اور اجتماعی جدوجہد سے لاتعلقی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ ایسا کارکن نہ صرف اپنی فکری سمت کھو دیتا ہے بلکہ لاشعوری طور پر تحریک کی مجموعی قوت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انقلابی اور مزاحمتی سیاست میں، جہاں ریاستی دباؤ، جبر اور فکری یلغار مسلسل موجود ہوتی ہے، ایسی بے سمتی پوری تحریک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
سفیر بلوچ کے نزدیک ایک باشعور سیاسی کارکن وہی ہے جو آزاد سوچ اور تنظیمی وابستگی کے درمیان توازن قائم رکھے۔ وہ نظریے پر سوال اٹھاتا ہے، مگر نظریے سے کٹتا نہیں؛ وہ تنقید کرتا ہے، مگر اجتماعی راستے کو کمزور نہیں کرتا؛ اور وہ اختلاف رکھتا ہے، مگر مقصد سے بے وفائی نہیں کرتا۔ یہی توازن کارکن کو ذاتی انفرادیت کے ساتھ ساتھ اجتماعی جدوجہد کا مؤثر حصہ بناتا ہے۔

ان کے مطابق، قومی آزادی اور مزاحمتی تحریکیں اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب ان کے کارکن فکری طور پر آزاد مگر نظریاتی طور پر مضبوط، تنقیدی مگر منظم، اور باشعور مگر مقصد سے جڑے ہوں۔ یہی شعوری وابستگی تحریک کو انتشار سے بچاتی اور اسے تاریخی سمت عطا کرتی ہے۔

نشست کے اختتامی نکات میں سفیر بلوچ نے مطالعہ کی غیر معمولی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے ایک سیاسی کارکن کے لیے محض اضافی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت اور جدوجہد کا بنیادی جزو قرار دیا۔ ان کے نزدیک مطالعہ وہ فکری عمل ہے جو کارکن کی سوچ کو گہرائی عطا کرتا ہے، اس کی دلیل کو وزن بخشتا ہے اور اس کی عملی جدوجہد کو شعور، بصیرت اور مقصدیت کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔

سفیر بلوچ کے مطابق مطالعہ کے بغیر کوئی بھی سیاسی کارکن نہ تاریخ کو درست تناظر میں سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی موجودہ حالات کی پیچیدگیوں، تضادات اور طاقت کے ڈھانچوں کا ادراک کر سکتا ہے۔ جو سیاست مطالعہ سے خالی ہو، وہ یا تو سطحی نعرہ بازی میں بدل جاتی ہے یا محض جذباتی ردِعمل تک محدود رہتی ہے۔ اس کے برعکس، مطالعہ کارکن کو جذباتی سیاست سے نکال کر شعوری، منطقی اور تجزیاتی سیاست کی طرف لے جاتا ہے۔

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک سیاسی کارکن کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے سماج، قوم، سرزمین اور اس پر مسلط سیاسی، معاشی اور سماجی حالات سے گہری واقفیت رکھتا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ، بدلتے ہوئے عالمی سیاسی رجحانات، طاقت کے بین الاقوامی توازن، اور عالمی تحریکوں کے تجربات سے باخبر رہنا بھی ناگزیر ہے۔ یہ آگاہی کسی رسمی تربیت یا وقتی معلومات سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ مسلسل، سنجیدہ اور منظم مطالعہ ہی اس کا واحد ذریعہ ہے۔

سفیر بلوچ کے نزدیک مطالعہ کارکن کو تجزیاتی قوت بھی فراہم کرتا ہے۔ اسی کے ذریعے وہ یہ سمجھ پاتا ہے کہ مسائل کا تاریخی پس منظر کیا ہے، ان کے اسباب کن طاقتوں اور پالیسیوں میں پوشیدہ ہیں، اور ان کے ممکنہ حل کن راستوں سے نکل سکتے ہیں۔ مطالعہ ہی کارکن کو یہ صلاحیت دیتا ہے کہ وہ عوام سے مؤثر، مدلل اور بامعنی انداز میں گفتگو کرے، اور محض نعروں کے بجائے شعور پر مبنی مکالمہ قائم کر سکے۔

وہ واضح کرتے ہیں کہ مطالعہ کو محض سیاسی نظریات یا پارٹی لٹریچر تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ایک سنجیدہ سیاسی کارکن کو تاریخ، معاشیات، فلسفہ، سماجیات، انسانی حقوق، جمہوریت، نوآبادیاتی و مابعد نوآبادیاتی مباحث، عالمی تحریکوں اور بدلتے ہوئے عالمی ماحول پر بھی گہری نظر رکھنی چاہیے۔ یہی وسعتِ مطالعہ نظریے کو پختگی، سیاست کو سنجیدگی اور جدوجہد کو پائیداری عطا کرتی ہے۔

سفیر بلوچ کے مطابق، جب مطالعہ ایک کارکن کی عادت، فکری ضرورت اور سیاسی اوزار بن جاتا ہے تو وہ محض ایک سرگرم فرد نہیں رہتا بلکہ ایک باشعور، ذمہ دار اور تاریخی جدوجہد کا حامل سیاسی کردار بن جاتا ہے۔ ایسی سیاست وقتی دباؤ سے نہیں ٹوٹتی، نہ ہی آسانی سے گمراہ ہوتی ہے، بلکہ شعور، دلیل اور مسلسل فکری ارتقا کے ذریعے آگے بڑھتی ہے۔

***

Share This Article