بلوچستان کے ضلع کیچ کے تحصیل بلیدہ کے رہائشیوں نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلیدہ بٹ میں پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود لوگوں سے بل وصولی کا سلسلہ جاری ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ بلیدہ بٹ میں پی ٹی سی ایل کا نظام مکمل طور پر ناکارہ ہوچکا ہے، تاہم اس کے باوجود صارفین سے ہر ماہ مکمل بل وصول کیے جارہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ روزانہ رات آٹھ بجے سے صبح آٹھ بجے تک مسلسل بند رہتی ہے، جبکہ موبائل ڈیٹا کی سہولت کئی سالوں سے یہاں موجود ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی اس طویل بندش اور شدید سست روی کے باعث طلبہ و طالبات کو تحقیقی کام، آن لائن کلاسز، آن لائن کاروبار اور ہنگامی حالات میں رابطہ کاری کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک پسماندہ علاقے میں یہ صورتحال عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوجوانوں کا کہنا تھا کہ ہم اس سے قبل بلیدہ میں موجود پی ٹی سی ایل کے لوکل اہلکاروں سے بارہا مطالبہ کرچکے ہیں، مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ آج ہم ایک علاقائی وفد کی صورت میں تُربَت مرکز میں پی ٹی سی ایل کے ذمہ داران کے پاس بھی گئے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نہ ہمیں سنا گیا اور نہ ہی کوئی تسلی بخش جواب دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ تمام صارفین باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں، کوئی بھی صارف ڈیفالٹر نہیں ہے، اس کے باوجود محکمہ پی ٹی سی ایل عوامی مسائل کے حل میں کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ مچند عرصہ قبل انٹرنیٹ نظام کی بہتری کے لیے 2800 میٹر کیبل کی ضرورت ظاہر کی گئی تھی، تاہم کئی مہینوں سے یہ کام اس بہانے سے التوا کا شکار ہے کہ دستیاب کیبل صرف 1100 میٹر ہے، جو ناکافی اور تین حصوں میں منقسم ہے۔
مزید برآں، بلیدہ ان علاقوں میں سرفہرست ہے جہاں تاحال فائیبر آپٹک سہولت فراہم نہیں کی گئی، جو اس دورِ جدید میں انتہائی تشویشناک امر ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم واضح الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ اگر پی ٹی سی ایل نے بلیدہ بٹ کے انٹرنیٹ نظام کو فوری طور پر درست نہیں کیا تو ہم اپنے قانونی اور جمہوری حق کے تحت سخت احتجاج، روڈ بلاک اور شٹر ڈاؤن ہڑتال پر مجبور ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ کے ذمہ داران کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا آپشن بھی ہمارے پاس موجود ہے۔