بلوچستان کے علاقوں جھاؤ، اورناچ اور گرد و نواح سے اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ پاکستانی فوج اور ان کی حمایت یافتہ مسلح گرو ڈیتھ اسکواڈنے مذکورہ علاقوں میں کرفیو نافذ کرکے کنٹرول سنبھال لیا ہے جہاں وسیع پیمانے پر فوجی جارحیت جاری ہے۔
مذکورہ علاقوں میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سمیت ہیلی کاپٹر، کواڈ کاپٹر اور ڈرون کیمروں سے مقامی آبادیوں کی نگرانی کی بھی اطلاعات سامنے آرہی ہیں ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی جارحیت کے دوران متعدد افراد کی گرفتاری وجبری گمشدگی کی بھی اطلاعات ہیں تاہم اب تک اس کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ گھر گھر تلاشی اور سرچ آپریشن کی جارہی ہے ،لوگوں کو گھروں میں محصور رکھا گیا ہے، کسی کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ۔
مقامی میڈیا ذرائع نے جن جن علاقوں کی نشاندہی کی ان میں سورگر، گروک، اورناچ اور جھاؤ سمیت گردونواح کے تمام علاقے شامل ہیں جن میں فوجی جارحیت جاری ہے۔
کہا جارہا ہے کہ مذکورہ فوجی جارحیت سے قبل گزشتہ روز چند مقامی کسان اپنے کھیتوں میں کام کے لیے گئے تو فورسز نے انہیں غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی فصلیں بھی روند ناکارہ کردی گئیں۔
دوسری جانب یہ بھی اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ اورناچ کراس، کاسی کراس، کنجاآباد، بھاہی پاس کاریز، سرداری بھنٹ، ریگو بازار اسکول، اسپتال بازار، دشت کو، خدابخش گوٹھ اور اورناچ ڈیم سمیت کئی علاقوں میں چوکیاں قائم کی گئی ہیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس کا سماں ہے اور لوگوں کی نقل و حرکت محدود ہوگئی ہے۔