انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے تنظیم بلوچ وائس فار جسٹس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انورالحق کاکڑ ناروے کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کو پیش کر سکیں۔ ناروے میں ان کی موجودگی سنگین خدشات کو جنم دیتی ہے کیونکہ وہ فوج کے ایک سیاسی اثاثے کے طور پر کام کرتے رہے ہیں، جنہیں بلوچ عوام کی مقامی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں، مسخ شدہ لاشوں اور بلوچ شہریوں کے خلاف منظم تشدد کے سلسلے کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے ایسی پالیسیوں کی حمایت کی جنہوں نے پورے معاشروں کو موت، خوف اور اجتماعی سزا سے دوچار کیا۔
بلوچ وائس فار جسٹس نے کہا کہ کاکڑ نے شفیق مینگل اور سرفراز بگٹی جیسے افراد کو فروغ دیا جو ریاستی ڈیتھ اسکواڈز چلاتے تھے اور بلوچ سیاسی کارکنوں کے قتلِ عام میں ملوث رہے۔ ان اسکواڈز نے ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اور بلوچ سیاسی اظہار کو خاموش کرنے کی غرض سے ایک منظم مہم چلائی۔ کاکڑ نے ان نیٹ ورکس کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ ان کا کیریئر ان لوگوں کے دکھ، اذیت اور قتل پر کھڑا ہے جنہیں اغوا، تشدد اور قتل کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے ریاستی تشدد کو پالیسی کے طور پر پیش کرنے والے عوامی بیانات کے ذریعے ان جرائم کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کی۔
بیان میں کہاگیا کہ کاکڑ نے خود کو اصلاحات پسند قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر بدعنوانی سے بھی فائدہ اٹھایا۔ ان کا سیاسی کردار فوجی اسٹیبلشمنٹ کو جواب دہی سے بچانا رہا ہے۔ انہوں نے چُنندہ بیانیوں اور گمراہ کن معلومات کے ذریعے جرائم کو معمول کے اقدامات کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ وائس فار جسٹس ناروے کی حکومت اور اس کے حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس دورے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ ناروے انسانی حقوق کے تحفظ اور مظلوم برادریوں کی حمایت میں مضبوط ریکارڈ رکھتا ہے۔ ایسے شخص کی میزبانی، جو جبری گمشدگیوں اور منظم ریاستی جبر کا دفاع کرتا ہے، اس عزم سے مطابقت نہیں رکھتی۔ بلوچستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین آج بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔ وہ آج بھی ان بیٹوں کی تصاویر اٹھائے پھرتے ہیں جو گھر واپس نہیں آئے۔ وہ آج بھی اسی نظام کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں جس کی نمائندگی کاکڑ کرتے ہیں۔
بلوچ وائس فار جسٹس نے مزید کہا کہ ہم @Regjeringen، @Utenriksdept، @NorwayMFA، @NorwayinPak، @PEN_Norway سے درخواست کرتے ہیں کہ بلوچ قوم کے خدشات کو تسلیم کریں۔ اس دورے کو معمول کی سفارتکاری نہ سمجھا جائے۔ یہ ایک آزمائش ہے کہ آیا انسانی حقوق سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہیں یا نہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صحافی نادر بلوچ نے انسانی حقوق کے معروف قانون دان ایمان مزاری ایڈووکیٹ کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیے گئے یورپی یونین کی جانب سے کی گئی ٹوہیٹ کو کوٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جانب یورپی یونین ایمان مزاری کو بنیادی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد پر خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان میں ان کے خلاف قانونی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی تناظر میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایک سفارتی سرگرمی کے طور پر ناروے میں رابطے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سابق نگران وزیرِ اعظم پاکستان انوارالحق کاکڑ کی جلد ناروے روانگی متوقع ہے، جہاں وہ ایمان مزاری کو ناروے میں ملنے والے ڈیموکریسی ایوارڈ اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی نوبل انعام کے لیے نامزدگی کے معاملے پر حکومتِ پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ذرائع کے مطابق، دورے کے دوران وہ نارویجن سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعلقہ حلقوں سے ملاقاتوں میں ناروے میں مقیم صحافی کییا بلوچ اور بعض نارویجن انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ایمان مزاری کے معاملات میں مبینہ مداخلت پر حکومتِ پاکستان کا مؤقف واضح کریں گے۔ ذرائع کے مطابق سابق نگران وزیرِ اعظم انوارالحق کاکڑ 15 دسمبر کو نارویجن سول سوسائٹی کے سربراہان اور اراکین کو بلوچستان کی صورتحال اور وہاں مبینہ بیرونی مداخلت سے متعلق بھی بریف کریں گے۔