ماہنامہ سنگر اگست شمارہ
خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات بلوچستان کے سیاسی جغرافیائی کردار کو روز بروز نمایاں کررہے ہیں، اگرچہ بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت تاریخی طور پر ہمیشہ نمایاں اور ماضی کی استعماری طاقتوی کے مفادات کیلئے کلیدی حیثیت کی حامل رہی ہے مگر آج کا دور بلوچستان کی سرزمین اور اس کے طویل ترین ساحل کو سامراجی قوتو ں کے اہم ترین مفادات کے ایک ایسے مرکز میں بدلتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ جس پر غلبے کے بغیر ان کے اقتصادی، سیاسی اور دفاعی مفادات کی تکمیل درست طورپر آسان نظر نہیں آتی
اس فضامیں بعض تجزیہ کار بلوچستان کے مستقبل کی جو ممکنہ تصویر پیش کررہے ہیں، وہ صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے عوام کیلئے پریشان کن اور تشو یشناک قرار دی جاسکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چین اور امریکہ سمیت بعض علاقائی وعالمی طاقتوں کے درمیان نا قابل مصالحت مفاداتی تضادات میں جس طرح تیزی سے شدت آرہی ہے اسی طرح بلوچستان پر کنٹرول بڑھانے کی تگ ودوبھی بڑھ رہی ہے، جس میں چین اب تک سب سے آگے ہے، اور اب ایران کے ساتھ حالیہ25 سالہ معاہدے کے بعد تومغربی بلوچستان بھی چین کے ہاتھ میں آگیا ہے، جسے بعض مبصرین اور سیاسی حلقے پاکستان وایران کے زیر کنٹرول دونوں اطراف کے مشرقی ومغربی بلوچستان کے وسیع وعریض سرزمین پر چین کے سامراجی قبضے کی تکمیل سے تعبیر کر رہے ہیں لیکن چین کی اس پیش قدمی کو نہ صرف بلوچ قوم اپنے وجود کو لاحق ممکنہ خطرات کے پیش نظر قبول کرنے پر آمادہ نظرنہیں آتی، اور مقامی سطح پر مخالفت اورخدشات کا اظہار کیا جارہا ہے بلکہ امریکہ سمیت وہ تمام چھوٹی یابڑی طاقتیں جن کے آج چین کے ساتھ مفاداتی تضادات میں روز بروز شدت آرہی ہے کسی بھی طرح چین کے ان بڑھتے ہوئے قدموں کو روکیں گے جوان کے مفادات کو روندنے کا باعث بنیں گے۔
چین کے سامراجی مفادات کی راہ میں حائل یہ رکاوٹیں اپنے عمل اور نتائج میں مختلف نوعیت کے ٹکڑاؤ، اور جنگ کی مختلف اشکال کی حامل ہیں، چونکہ بلوچستان دنیا کی معیشت پر کنٹرول کیلئے اٹھائے گئے چین کے پہلے بنیادی قدم اور سفر کے آغاز کا مرکزی کیمپ بن چکا ہے،لہذاامریکہ اور دیگر حریف طاقتوں کیلئے یہ ناگزیرہوگا کہ وہ چین کو نہ صرف بلوچستان سے آگے باقی دنیا کی طرف نہ بڑھنے دیں بلکہ وہ اسے بلوچستان جیسے سیاسی جغرافیائی طور پر انتہائی اہمیت کے حامل مقام سے واپس گھر جانے پر مجبور کریں۔
ظاہرہے کہ یہ کیفیت طاقت پر انحصارکو بڑھائے گی،جس سے جنگی فضا کا تشکیل پانا ناگزیز ہے۔مبصرین کے خیال میں اسی
ممکنہ پیش منظر کو دیکھتے ہوئے چین گوادرسمیت پورے بلوچ ساحلی علاقوں میں صرف میگا اقتصادی منصوبوں کیلئے ہی سرگرم نہیں ہے بلکہ یہاں بڑے پیمانے پر سیکوٹری کے نام پر دفاعی وعسکری تنصیبات اور سازو سامان کی تعمیرات و منتقلی میں بھی مصروف ہے،ان سرگرمیوں کے نتیجے میں بعض تجزیہ کار یہ خدشات ظاہر کر رہے ہیں کہ چین اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ و حصول اور اپنی حریف طاقتوں سے لاحق ممکنہ جنگی خطرات سے نمٹنے کیلئے بلو چستان کو ایک مصلح جنگی مورچے میں بدل رہا ہے، جس کاناگزیر خطرناک اورتباہ کن نتیجہ بلوچستان کو چین اور اس کی حریف طاقتوں کے مابین ممکنہ جنگ کے میدان میں بدلنے کی صورت میں برآمد ہوگا،اور ایسی جنگ یقینی طور پر عالمگیر شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کا تمام ترخمیازہ بلوچستان اور بلوچ قوم کو بھگتنا پڑے گا۔
اگر چہ پاکستانی حکمران وسرکاری حلقے گوادر سمیت بلوچ ساحلی علاقوں میں چین کی فوجی و عسکری سرگرمیوں کی تردید کرتے ہوئے محض محدود پیمانے پر اقتصادی سرگرمیوں کے تحفظ کیلئے سیکورٹی اقدامات کا تذکرہ کررہے ہیں،لیکن مقامی ودیگرسیاسی و سماجی حلقے چین کی بلوچ ساحل پر جمع ہوتی ہوئی عسکری قوت اور مقامی آبادی کیلئے ان علاقوں کو نوگوایریا بنانے کے اقدامات کی وجہ سے شدید تشویش اور مختلف خدشات اور وسوسوں کا شکار ہیں۔ان حلقوں کے مطابق سی پیک سمیت گوادر پورٹ و دیگر میگا اقتصادی چینی منصوبوں کو بلوچستان اور بلوچ قوم کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن قرار دیا جارہاتھا لیکن چین کی بڑھتی ہوئی حالیہ عسکری سرگرمیاں ان دعوؤں کے برعکس بلوچستان کو سامراجی جنگ کے دوزخ میں بدل رہی ہیں۔لہذاایسی صورت میں ضرورت اس امرکی ہے کہ چین کے بلوچستان میں جنگی وعسکری منصوبوں اور ان سے بلوچستان کی سر زمین اور بلوچ عوام کو لاحق سنگین خطرات سے دنیا کو آگاہ کیا جائے بلکہ بلوچستان کو چین سمیت کسی بھی علاقائی و عالمی طاقت جنگی مورچے میں بدلنے سے روکنے کیلئے تمام بلوچ سیاسی وسماجی حلقے اورامن دوست قوتیں اپنا بھر پور کردارادا کریں۔