بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی) کے اسیر آرگنائزرڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ساتھ انصاف، انسانی حقوق اور ہر انسان کے وقار کی جدوجہد میں یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہوں۔ انکی ہمت و جدوجہد پر خاموش نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار جیسا ایک بنیادی حق ان سے چھینا گیا ہے، جبکہ ریاستی اداروں کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کرنے کی بجائے نوآبادیاتی دور کے قوانین کارکنوں کو خاموش کرنے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ کئی سالوں سے ایمان اور ہادی انسانی حقوق کی وکالت میں سب سے آگے رہے ہیں۔ پسماندہ آوازوں کو آگے لا رہے ہیں اور ہر قسم کی ناانصافی اور مظالم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ ان کے خلاف لایا گیا من گھڑت مقدمہ، ریاست کے جابرانہ ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرتا ہے اور اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ انصاف کے نظام کو کتنی آسانی سے ان لوگوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔
بی وائی سی رہنما نے مزید کہا کہ میں عالمی برادری پر زور دیتی ہوں کہ وہ ایمان اور ہادی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ان پر لگے تمام بے بنیاد الزامات کو فوری طور پر واپس لینے، منصفانہ ٹرائل اور مناسب قانونی عمل کا مطالبہ کریں۔ قانون کا استعمال جبر کے ہتھیار کے طور پر کرنا ختم ہونا چاہیے اور جیت انصاف کی ہونی چاہیے۔