افغانستان کے علاقے خوست میں گذشتہ دنوں پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 9 بچوں سمیت 10 افراد کی تدفین خوست میں کردی گئی۔
مرنے والوں میں پانچ لڑکے، چار لڑکیاں بھی شامل تھیں، جن کے بارے میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہاہے کہ یہ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ وہ شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتی اور بغیر پیشگی اطلاع کے حملہ نہیں کرتی۔
افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ حملہ پاکستانی فوج نے کیا ہے، جسے وہ افغان سرزمین پر حملہ سمجھتے ہیں اور مناسب وقت پر اس کا مناسب جواب دیں گے۔‘
خوست میں ایک خاندان کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’خوست حملے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد میرے خاندان کے افراد ہیں۔‘
ان کے مطابق ’انھیں گذشتہ رات خبر ملی کہ ان کے بھائی کے گھر پر حملہ ہوا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ گذشتہ رات ہلاک ہونے والوں میں ایک بہن، سات بھانجے اور دو پوتیاں شامل ہیں۔
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن (آئی ایچ آر ایف) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ رات پاکستانی فوجی دستوں نے افغانستان کے کنڑ، خوست اور پکتیکا صوبوں پر فضائی حملے کیے۔
بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ تصدیق شدہ اطلاعات بتاتی ہیں کہ حملوں میں کم از کم 10 شہری ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہوئے، جن میں تقریباً تمام خواتین اور بچے تھے۔
اس تنظیم کے مطابق ان حملوں میں کئی رہائشی عمارتیں بھی تباہ ہو گئیں۔
اس فاؤنڈیشن کی معلومات کے مطابق صوبہ کنڑ میں چھ شہری زخمی، صوبہ پکتیکا میں ایک شہری زخمی، صوبہ خوست میں دس شہری ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں سات بچیاں اور بچے شامل ہیں۔
تنظیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں کے آباد علاقوں پر حملے اور بڑی تعداد میں ہلاکتیں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جاتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی ایچ آر ایف واقعے کی فوری، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے اور قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔