آئی ایس پی آرکا بلوچستان و خیبرپختونخوا میں 4 ہزار 910 آپریشن میں206 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آرنے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں 4 ہزار 910 آپریشن میں206 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے ۔

ترجمان آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری ان کا کہنا تھا کہ 4 نومبر کے بعد سے اب تک 206 دہشتگرد مارے گئے ہیں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں 4 ہزار 910 آپریشن کیے گئے جبکہ پاکستان میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے افغانستان کی جانب سے پاکستان پر فضائی حملوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزام کے جواب میں منگل کو سینیئر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی کوئی بھی فوجی کارروائی علی الاعلان ہوتی ہے۔‘

یاد رہے کہ پاکستانی میڈیا محض فوج کی جانب سے جاری کردہ اس کی پریس ریلیز کے دعوئوں پر اکتفا کرتا ہے کہ اس نے کتنے آپریشن میں کتنے عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے جبکہ ہلاک کئے جانے والے افراد کی حقیقی شناخت کو اس بنیاد پر ظاہر نہیں کرتی کیونکہ وہ محض دعوئوں کے ذریعے پاکستانی عوام کو اندھیرے میں رکھتی ہے اور حقیقت عموماً اس کے برعکس ہوتی ہے ۔ جو بلوچ اور پشتون نسل کشی پر مشتمل ہوتی ہے۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پاکستانی فوج کی جانب سے قتل کئے جانے والے افراد عموماً لوگ عام افراد ، طلبا ،سیاسی کارکنان ، مزدور اور فوج وحکومتی ناقدین ہوتی ہیں جنہیں پہلے ماورائے عدالت جبری گمشدگی کا نشانہ بناکر بعدازاں ان کوجعلی کارروائیوں میں قتل کرکے ان پر ہندوستان کے ساتھ روابط کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن کھبی بھی ثابت نہیں کرپاتا۔

اس سے قبل افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے صوبہ خوست میں ایک گھر پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 10 بچے اور خواتین ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کنڑ اور پکتیکا میں ہونے والے فضائی حملوں میں مزید چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان عبوری حکومت کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور واضح کیا کہ پاکستان مختلف دہشت گردوں کے گروہوں میں فرق نہیں کرتا۔

پاکستان ٹی وی کے سربراہ عادل شاہزیب نے سرکاری ٹی وی پر فوجی ترجمان سے ہونے والی ملاقات کا احوال بتایا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک تفصیلی ملاقات تھی جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات بتائی ہیں۔

عادل شاہزیب کے مطابق فوجی ترجمان نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ افغان عبوری حکومت کی بھی شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی کو ہر طرح کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے مطابق افغان طالبان طالبان کی حمایت سے ہی پاکستان میں 50 اور 60 جبکہ بعض دفعہ 100، 100 ٹی ٹی پی کے شدت پسند پاکستان میں اپنی ’دہشتگردانہ کارروائیوں‘ کے لیے داخل ہوتے ہیں۔

Share This Article