بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں ضلع کیچ کے علاقے مند میں 3 مختلف کارروائیوں میں 5 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور ایک پل کو دھماکے سے تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 16 نومبر کو دوپہر تقریباً بارہ بجے کیچ، مند میں شند اور دریا چم کے درمیانی علاقے میں حملہ کرکے پاکستانی فوجی قافلے کو تحفظ فراہم کرنے والی پیکٹ فورس کے دو اہلکاروں کو نشانہ بنایا جو موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔ مذکورہ مقام سے تھوڑے فاصلے پر فوجی قافلے میں شامل پہلی گاڑی کو سرمچاروں نے قریب سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں مزید دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ جھڑپ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران فورسز کی مدد کے لیے دو ہیلی کاپٹر بھی موقع پر پہنچے، تاہم سرمچار کارروائی مکمل کرنے کے بعد محفوظ مقام پر واپس جانے میں کامیاب رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی روز ایک اور کارروائی میں دوپہر تقریباً دو بجے شیپچار کے پہاڑی علاقے میں فوجی چیک پوسٹ پر بی ایل ایف اسنائپرز کے دستے نے فوجی اہلکاروں کو حملے میں اس وقت نشانہ بنایا جب وہ چوکی سے باہر نکلے۔ حملے کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار موقع پر ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔
انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے ایک اور کاروائی میں 14 نومبر کو کوہ ڈگار کے علاقے میں مند–تربت شاہراہ پر قائم ایک پل کو دھماکے سے تباہ کیا جس کے نتیجے میں پل مکمل طور پر ناکارہ ہوگیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کیچ، مند میں تین مختلف کارروائیوں میں پانچ فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور دو کو زخمی کرنے سمیت ایک پل کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور بلوچستان کی آزادی کے لیے بلوچ سرزمین پر موجود فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر کے خلاف حملے جاری رکھیں گے۔