متنازع ٹویٹس مقدمے میں وکیل ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی چٹھہ گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں سماجی کارکن وکیل ایمان مزاری کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اسلام آباد کی ایک عدالت نے بدھ کو ایمان مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کے خلاف درج مقدمے کی سماعت کی اور ہادی علی کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے، جس کے بعد عدالت سے نکلتے ہی انھیں گرفتارکر لیا گیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کرکے کل پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

اس عدالتی حکمنامے کے بعد جیسے ہی سماعت کے بعد وہ کمرہ عدالت سے باہر نکلے تو انھیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اہلکاروں نے ہتھکڑی لگا کر گرفتار کرلیا۔

دونوں ملزمان پر یہ الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملات کی ذمہ داری سکیورٹی فورسز پر عائد کی تھی۔ یہ مقدمہ الیکٹرانک کرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 30 ستمبر کو جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق این سی سی آئی اے نے ملزمان کے خلاف سات صفحات پر مشتمل چالان جمع کرایا تھا، چالان میں پراسیکیوشن کے چار گواہان کی فہرست بھی شامل تھی۔

چاروں گواہان این سی سی آئی اے کے ملازم ہیں، چالان میں ایمان مزاری کے مختلف ٹوئٹس کا متن بھی درج تھا۔

چالان میں کہا گیا تھا کہ ایمان مزاری کی ٹوئٹس کو ری ٹوئٹ یعنی انھیں مزید آگے پھیلایا تھا۔

Share This Article