چمن: فورسز اور مظاہرین میں دوبارہ تصادم،درجن سے زائد زخمی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے شہر چمن میں پاکستان اور افغانستان کو ملانے والے سرحدی گیٹ پر پاکستانی فورسز اور مشتعل مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں مزید مزیددرجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں میں تین لیویز اہلکار بھی شامل ہیں۔

گذشتہ روز سے جاری تصادم میں اب تک 30 افراد زخمی اور خاتون سمیت چار افراد شہید ہوئے ہیں جبکہ افغان حکام کی جانب سے زخمیوں کی تعداد 50 بتائی جارہی ہے۔

فرنٹیئر کور اہلکاروں کی جانب سے دھرنا مظاہرین کے ٹینٹوں کو آگ لگانے کی اطلاعات ہے۔

چمن شہر میں گذشتہ روز سے حالات میں کشیدگی برقرار ہے۔ صوبائی وزراء کمیٹی چمن پہنچ چکی ہے جبکہ باب دوستی کا کنٹرول پاکستان آرمی کو دے دی گئی۔

ذرائع کے مطابق چمن شہر میں انٹرنیٹ سروسز کو معطل کردیا گیا۔ محکمہ داخلہ و قبائلی امور حکومت بلوچستان نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو خط لکھاتھا کہ سرحدی علاقے میں بعض لوگ ریاست کے خلاف مواد انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر رہے ہیں لہٰذا انٹرنیٹ سروس بشمول تھری جی، فور جی کو معطل کردیا جائے۔

دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملکی فوج کے سربراہ نے مسلح دستوں کو حکم دے دیا ہے کہ اگر پاکستانی فورسز کی طرف سے کوئی مزید حملہ کیا جائے تو اس کا جواب آہنی ہاتھ سے دیا جائے۔

جمعے کے دن افغان فوج نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے کی گئی شیلنگ کے نتیجے میں نو شہری ہلاک جبکہ پچاس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت دفاع کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق پاکستانی فوج کی طرف سے داغے گئے راکٹ جنوبی صوبے قندھار کے سپن بولدک ضلع کے رہائشی علاقوں میں گرے۔

افغان وزارت دفاع کے اس بیان میں مزید کہا گیا، ”ایئر فورس اور خصوصی دستوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اگر پاکستانی فوج کی طرف سے راکٹ حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو افغان آرمی اپنا ردعمل ضرور ظاہر کرے گی۔“

Share This Article
Leave a Comment