گزرا عیدالاضحیٰ شہید دودا جان کے ساتھ – تحریر: یاسر بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

عید کیا ہے؟ عید مسلمانوں کے تہوار ہیں عید دو ہوتے ہیں ایک عید کو عیدالفطر کا نام دیا جاتا ہے(چھوٹی عید) بھی کہتے ہیں دوسرا عیدالاضحیٰ کا نام دیا جاتا ہے اور (بڑی عید) بھی کہا جاتا ہے۔
اسلام میں عید کی دو اہم تقریبات ہیں: عید الفطر ، جو رمضان کے مقدس مہینے کی تکمیل کی علامت ہے۔ اور عید الاضحیٰ ، عید الاضحی ، جو قربانی کے وقت ، سالانہ حج یاتری کی تکمیل کے بعد ہوتی ہے۔
اور عید ایک خوشی کا دن ہے اس دن کو پورے دنیا کی مسلمان بڑی دھوم دھام سے منایے جاتے ہیں۔ مگر بلوچستان میں ان دونوں تہواروں کے دنوں کو  خوشی سے نہیں بلکہ آنسوؤں سے منایا جاتا ہے
کیونکہ کوئی اپنے بابا کے غم میں رو رہا ہوتا ہے کوئی اپنے بیٹے کے لئیے کوئی بھائی کے لئیے رو رہا ہوتا ہے۔
جب اس وقت ایک گھر سے چھوٹے بچے کے آہ بری آواز سے اس کا بابا کا نام آتا ہے تو اس بچے کے ساتھ پورے اس کے خاندان کو ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک آگ میں جل رہے ہیں۔


آج بانڑی جیسی بیٹیاں بھی اپنی پاپا کو پیدا ہوتے ہی نہیں دیکھی ہے
جب بانڑی جیسی بیٹی بڑی ہوکر اپنی ماں سے اپنے بابا کے بارے میں پوچھتی ہے تو پتہ نہیں اس ماں پر کیا گزرتی ہے بلوچستان میں اس وقت بھی بہت سی ایسی بہادر مائیں ہیں جو فخر سے اپنے پھول جیسی بیٹیوں کو بتائیں گی کہ آپ کے بابا اپنے مادر وطن کے لئیے قربان ہو گئی ہے۔
بانڑی جیسی بہت سی بیٹیاں ہیں جو اب تک نہیں جانتے باپ کا پیار کیا ہوتا ہے اس طرح کے بہت سے ہیں اپنے باپ کے پیار کے لیئے ترستے ہیں
اسی طرح میں اپنے بھائی جیسے دوست شہید دودا جان کے ساتھ گزرے ہوئے عید ایک ساتھ منایا تھا تو ہم بہت خوش تھے ایک ساتھ تھے لیکن اس سال کے عید میں مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں بالکل تنہا ہوں کوئی میرے ساتھ نہیں  ہے۔
پچھلے سال 30جون 2019 جب میں  پہلی بار شہید دودا سے ان کی شادی میں ملا تو میں انہیں جانتا تک نہیں تھا لیکن کچھ دن بعد میں اور شہید دودا واقف ہوئے  ہم ایک دوسرے کے ساتھ ایسے دوست بن گئے میں ہر وقت ہمیشہ دودا کے پاس تھا ہر وقت ہم دونوں ساتھ ساتھ تھے شہید دودا مجھے اپنے چھوٹے بھائی کی طرح دیکھتا تھا ہمیشہ کہیں بھی جاتے تو ہم دونوں ایک ساتھ تھے میں اور شہید دودا بہت کم سمے میں ایک دوسرے کے ساتھ ملے تھے لیکن مجھے ایسا لگتا تھا جیسے ہم بچپن سے ایک دوسرے سے آشناہ تھے اگر میں ایک دن شہید دودا سے نہ ملا ہوتا تو اس دن میں بہت بے چین رہتا تھا۔
جب 2019 کے عیدالاضحیٰ میں اور شہید دودا کچھ دوستوں کے ساتھ تھے تو وہ عید بہت مزا اور پُر لزت تھے لیکن اب اس سال کا عید ایسا لگتا ہے ایک دردناک دن ہے جو دوست تھے ہم سے بچھڑ گئے ہیں بھائی جیسے دوستوں کے جدا ہونے سے ہر کوئی ہو اس کو ایسا لگتا ہے جیسے پیروں تلے زمین کسھک گیا ہوا ہے
مجھے آج ایسا محسوس ہورہا ہے کہ دودا آج بھی زندہ ہے، لیکن مرے تو آج ہم لوگ ہیں، کیونکہ ہم آج دودا جیسے ایک انمول ہیرے جیسے دوست سے محروم ہو گئے ہیں۔
جنوری,28 -2020ایک ایسا درد ناک دن ہے یہ دن کو میں کبھی نہیں بھول پاؤں گا۔

Share This Article
Leave a Comment