بلوچستان بارڈر پرافغانستان وپاکستان مابین سرحد ی جھڑپیں پھر شروع

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان اور افغانستان کے بیچ ایک بار پھر سرحدی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

افغانستان سے متصل بلوچستان کے چمن بارڈر پر آج صبح فجر کے وقت سے پاکستان اور افغانستان فورسز کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔

مقامی ذرائع کے مطابق رات بھر چمن شہر کے مضافات اور آس پاس علاقے میں جنگ کے بعد اب شہری علاقوں میں جنگ شروع ہوگئی ہے ۔

چمن بارڈر پر پاکستان اور افغانستان کا بھاری ہتھیاروں سے ایک دوسرے پر حملے جاری ہیں۔

چمن سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا اکاونٹ سے ویڈیوز نشر کی جارہی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض علاقوں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق چمن باب دوستی گیٹ کو بھی گولے لگنے سے نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل، پی ٹی وی، کے مطابق پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے منگل کی شام افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نے سرحد پار سے پاکستان کے ضلع کرم پر ’بلااشتعال فائرنگ‘ کی جس کے جواب میں کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی فوج نے طالبان پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

پی ٹی وی کے مطابق پاکستانی فوج کی اس کارروائی کے نتیجے میں افغان صوبے خوست میں انفراسٹرکچر کو تباہ کیا گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان نے اگرچہ سرکاری سطح پر فی الحال ان جھڑپوں کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی ہے تاہم ’طلوع نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے خوست کے گورنر مستغفر گرباز نے الزام عائد کیا ہے کہ منگل کی شام لگ بھگ سات بجے خوست کے علاقے ’پلوچہ‘ کو پاکستانی فوجیوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

افغانستان میں شعبہ اطلاعات کے ایک سربراہ علی محمد نے ’طلوع نیوز‘ کو بتایا کہ جھڑپوں میں ہلکے اور بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے اور تاحال جانی نقصانات کے حوالے سے کوئی اطلاعات موجود نہیں ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی گولہ باری کے نتیجے میں عام شہریوں کے مکانات کو بھی نقصان پہنچا جس کے بعد مقامی آبادی کا علاقے سے انخلا کیا گیا۔

دوسری جانب بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں پر ان کارروائیوں کے حوالے سے لوئر کرم کے گاؤں ’ولی چینہ‘ کی اہم شخصیت عنایت خان نے بتایا کہ منگل کو شام سات بجے کے لگ بھگ اچانگ فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آنا شروع ہوئیں جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

عنایت اللہ کے مطابق ’اس جھڑپ میں ہر قسم کے ہتھیار کے استعمال کی آوازیں آ رہی تھیں، جس کے بعد مقامی آباد گھروں میں محصور ہو گئی تاہم اب تک شہری آبادی کو کوئی نقصان پہنچنے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔‘

عنایت خان نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ فائرنگ اور دھماکوں کا یہ سلسلہ دو گھنٹے تک جاری رہا اور اس کے بعد خاموشی ہو گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ رات کو دیر گئے بھی فائرنگ کی آوازیں سنائی دی جا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب بھی مسلح جھڑپیں ہوئی تھیں۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ان جھڑپوں میں 200 سے زائد طالبان اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد چیک پوسٹس قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ سکیورٹی اہلکاروں سمیت 23 پاکستانیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی تھی۔

دوسری جانب افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کارروائیوں میں 58 پاکستانی سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article