بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے سول اسپتال میں کئی روز سے موجود 20 لاشوں کو باضابطہ طور پر لاوارث قرار دے کر چھیپا فاؤنڈیشن کی نگرانی میں دشت تیرہ میل کے قبرستان میں دفنا دیا گیا ہے۔
تدفین میں متعلقہ اداروں کے نمائندے اور چھیپا فاؤنڈیشن کے رضاکار موجود تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تدفین میں شامل 20 لاشوں میں سے چار لاشیں منگچر سے لائی گئی تھیں، جو حالیہ کارروائیوں کے دوران برآمد ہوئی تھیں۔
واضح رہے کہ منگچر سے لائی گئی لاشوں کی شناخت گل خان عرف یاسین ، عنایت اللہ ، عزت اللہ اور شئے مراد کے ناموں سے ہوئے ہیں ۔ جبکہ باقی دیگر لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی کارروائیوں کو مشکوک قرار دیا جاتا رہا ہے جبکہ کئی کارروائیاں میڈیا و متاثرہ لواحقین کے توسط جعلی قرار پائے ہیں تاہم حکومتی وزراء اور حکام ان کارروائیوں کا دفاع کرتے رہے ہیں۔
حالیہ کچھ وقتوں سے بلوچ قوم پرست حلقے، انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستانی فورسز کی جانب سے فوجی آپریشنوں میں عام آبادیوں کو نشانہ بنانے اور جعلی مقابلوں میں جبری لاپتہ افراد کو قتل کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ آج دفن کئے گئے لاشیں مختلف کارروائیوں میں مارے گئے مسلح افراد کے ہیں ، جن میں گزشتہ دنوں کوئٹہ ایف سی ہیڈ کواٹر میں مارے گئے افراد شامل ہیں ۔
دوسری جانب وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل حوران بلوچ نے مذکورہ لاشوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اسے ایک دل دہلادینے والا سانحہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پرہسپتال کے سرد خانے کی ایک تصویر شیئرکرتے ہوئے لکھا کہ یہ کوئٹہ کے ہسپتال کے سرد خانے سے ایک دل دہلا دینے والا منظر ہے جو غیر شناخت شدہ لاشوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک اور جبر کو اجاگر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے علاقے دشت، کوئٹہ میں حال ہی میں 20 غیر شناخت شدہ لاشوں کو لا ورث قرار دے کر دفنایا گیا۔ یہ صورتحال بلوچستان میں موجود خاندانوں کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے جدوجہد میں مصروف ہیں جو جبری گمشدگی کا شکار ہیں اور مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اور اپنے پیاروں کے انتظار میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم گزارش کرتے ہیں کہ وہ انسانیت کے تقاضوں کو ترجیح دیں اور ایسی لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرائیں تاکہ خاندانوں سے دوبارہ ملاقات ممکن ہو سکے۔ مقامی اخبارات میں تصویریں شائع کریں تاکہ پہچاننے میں آسانی ہواور غیر ضروری لا ورث دفنایا جانے کو روکا جا سکے۔
حواران بلوچ نے مزید کہا کہ انسانیت کا تذلیل کرنے کے سلسلے کو فورا ختم کیا جائے، کفن دفن کا حق انسانی حقوق میں آتا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ آئیں مل کر اس جبر کے آواز خلاف اٹھائیں اور اس مشکل گھڑی میں ان خاندانوں کی مدد کریں۔