خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے، پی ٹی آئی جلسہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاورمیں اتوار کے روزپاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی ) کے جلسہ عام میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی صورت میں آپریشن نہیں چاہتے بلکہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں تاکہ صوبے میں امن قائم ہو۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی وہ اس حق میں ہیں کہ یہاں آپریشن کیے جائیں۔

انھوں نے کہا کہ ’وفاقی حکومت سے کہتا ہوں افغانستان کے ساتھ مذاکرات کریں۔ عمران خان نے بھی مذاکرات کے ذریعے حالات بہتر کرنے کا کہا تھا۔‘

علی امین گنڈاپورکا کہنا تھا کہ ہم ان کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ وہ سب کو عمران خان کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

’جو حقیقی آزادی کی جنگ عمران خان لڑ رہا ہے وہ جنگ اس وقت جاری رہے گی جب تک مدینہ کی ریاست کا خواب پورا نہیں ہو جاتا جس میں لوگوں کو انصاف ملے۔‘

انھوں نے کہا کہ آج اس ملک میں عدلیہ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلے کریں۔

وزیر اعلی نے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ’عمران خان، ان کی اہلیہ جماعت کے کارکنوں اور پاکستان کی عوام کو انصاف فراہم کریں گے۔ اور جب تک آئین کے مطابق سارے ادارے کام نہیں کرتے، اس وقت تک آواز اٹھاتے رہیں گے۔‘

یاد رہے کہ پشاور میں منعقد پی ٹی آئی کے اس جلسے میں پاکستان کے مختلف شہروں سے کارکن اور عام شہری آئے تھے جن میں بلوچستان،سندھ اور پنجاب کے لوگ شامل تھے۔

خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں سے بھی کارکن اور قائدین اس جلسے میں شریک تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے اس جلسہ میں علی امین کے علاوہ جماعت کی سطح کے تمام قائدین نے شرکت کی ۔

ایسی اطلاعات بھی موجود ہیں کہ اس جلسہ سے پہلے یہ عہد کیا گیا تھا کہ تمام رہنما اور قائدین اختلافات بھلا کر متحد ہو کر اس جلسے کو کامیاب بنائیں گے تاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے جدو جہد کی جا سکے تاہم بی بی اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

Share This Article