سوڈان کے مغربی علاقے دارفر میں فائرنگ اور قتل عام میں 60افراد کے قتل کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد وزیر اعظم عبداللہ ہمدوک نے تازہ دم فوجی دستے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے عہدیدار نے اپنے بیان میں کہا کہ حملہ آوروں نے مقامی مسالیت برادری کو نشانہ بنایا اور بڑے پیمانے پر لوٹ مار کرنے کے بعد گھروں کو آگ لگا دی۔
اقوام متحدہ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق تقریباً 500 مسلح افراد دارفر کے شمال میں واقع بیدا کے علاقے ماستری میں ہفتے کی دوپہر حملہ کیا۔
خرعطوم میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار دفتر سے جاری بیان کے مطابق یہ گزشتہ ہفتوں میں رپورٹ ہونے والے سیکیورٹی کے واقعات کی تازہ کڑی ہے جس میں متعدد گاو¿ں اور گھروں کو جلا دیا گیا جبکہ مارکیٹوں اور دکانوں کو لوٹنے کے بعد انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا گیا۔
ماستری میں ہفتے کے حملے کے بعد تقریباً 500افراد نے مقامی سطح پر اس اندوہناک واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکام سے سیکیورٹی اور تحفظ کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
اتوار کو وزیر اعظم عبداللہ ہمدوک نے علاقے کی خواتین کے وفد سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ حکومت تنازع کا شکار دارفر کے علاقے میں عوام اور کاشتکاری کے سیزن کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز بھیجے گی اور ان دستوں میں پولیس اور فوج دونوں کے اہلکار شامل ہوں گے۔
عینی شاہدین کے مطابق جمعہ کو مسلح افراد گاڑیوں یں سوار ہو کر آئے اور کھیت سے کام کر کے لوٹنے والے 20افراد کو قتل کردیا۔
دارفر میں 2003 سے اقلیتی باغیوں اور حکومت افواج کے درمیان تنازع چل رہا ہے اور باغیوں کو کچلنے کے لیے جاری اس حکومتی مہم میں اب تک 3لاکھ افراد ہلاک اور 25لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔
سابق صدر عمر البشیر کے اقتدار کے خلاف احتجاج کے بعد فوج نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا تھا جس کے بعد حالات قدرے بہتر ہو گئے تھے اور رواں سال حکومت اور 9باغی گروپوں پر مشتمل اتحادی حکومت نے ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
عمر البشیر پر نشل کشی اور انسانی سوز جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے جس کے باعث وہ عالمی عدالت انصاف کو مطلوب ہیں۔
سابق صدر کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد نقل مکانی کرنے والے افراد نے 2ماہ قبل حکومت سے ہوئے معاہدے کے تحت اپنے گھروں کو واپسی شروع کردی تھی تاکہ وہ اکتوبر نومبر میں موسم کی فصل کاشت کر سکیں۔ لیکن خونریزی کا سلسلہ جاری رہا خصوصاً زمین کے حقوق پر تنازع ممزید سنگین ہو گیا ہے۔
مقامی سیاست پر گہرہ نظر رکھنے والے ماہر آدم محمد نے کہا کہ زمین اس تنازع کی ایک بڑی وجہ ہے، جنگ کے دوران لوگ اپنی زمین اور گاو¿ں چھوڑ کر کیمپوں میں چلے گئے تھے اور ان کی جگہ خانہ بدوش آ گئے تھے۔