بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں مسلح افراد کی ناکہ بندی اور ضلع پنجگور میں کسٹم پوسٹ پرحملہ کرتے ہوئے اہلکاروں کو حراست میں لیا اور اسلحات و دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔
گذشتہ شب تقریباً نو بجے کے قریب کوئٹہ شہر میں شیخ زاہد ہسپتال کے قریب مرکزی شاہراہ پر بلوچ آزادی پسندوں نے ناکہ بندی کی۔
اس دوران وہاں موجود پولیس اہلکار کو حراست میں لے کر اسلحہ ضبط کرلیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد آدھے گھنٹے تک شاہراہ پر موجود رہے اور اسنیپ چیکنگ جاری رکھی، بعد ازاں پولیس اہلکار کو رہا کردیا گیا۔
بلوچ آزادی پسندوں کی جانب شاہراہوں پر ناکہ بندیوں کے واقعات تسلسل سے رونماء ہورہے ہیں جس کے باعث فورسز، حکومتی ارکان و حکومتی حمایت یافتہ افراد کیلئے شاہراہوں پر سفر کرنا غیر محفوظ ہوچکا ہے۔
دو روز قبل ہی کیچ کے علاقے دشت میں بلوچ لبریشن آرمی کی مجید برگیڈ نے پاکستانی فورسز کو لیجانے والی بسوں کے قافلے کو ایک بڑی نوعیت کے حملے میں نشانہ بناکر جانی نقصانات سے دوچار کیا تھا۔
دوسری جانب پنجگور کے علاقے گومازین میں رات گئے مسلح افراد نے کسٹم چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔
کارروائی کے دوران وہاں موجود اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا جبکہ ایک گاڑی، دیگر سامان اور نقدی بھی اپنے قبضے میں لے لی گئی۔
تاہم اس دوران کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ان کارروائیوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔