اسلام آباد: بلوچ خاندانوں کے دھرنے کو 58 دن مکمل، ریاستی دبائو میں اضافہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی)کے اسیر رہنمائوں کی رہائی کے لئے بلوچ خاندانوں کا دھرنا نیشنل پریس کلب کے باہر 58ویں روز بھی جاری رہا۔

مظاہرین نے کہا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ ان پر دباؤ ڈال رہی ہے اور ان کے احتجاجی مقام کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مظاہرین کے مطابق جمعہ کے روز جب وہ اپنے احتجاجی مقام پر پہنچے تو وہاں پہلے سے گاڑیاں کھڑی تھیں۔

مظاہرین نے بتایا کہ انہوں نے مؤدبانہ انداز میں متعلقہ حکام سے ان گاڑیوں کو ہٹانے کی درخواست کی، مگر پولیس نے ان کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے مظاہرین کو سڑک پر کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ 58 دنوں سے ان کا احتجاج پُرامن ہے اور انہوں نے کسی کو تنگ نہیں کیا۔ تاہم، پہلے پولیس نے اردگرد کے علاقے خود بند کیے اور اب ان کے احتجاجی مقام پر قبضے کی کوشش کر رہی ہے۔

احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے ہمیشہ بلوچستان کی بزرگ ماؤں اور بہنوں کے ساتھ بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ رویہ پہلے بھی سامنے آیا تھا اور اب بھی واضح ہے۔

مظاہرین نے اعلان کیا کہ وہ اپنے احتجاج کو پرامن اور ثابت قدمی کے ساتھ جاری رکھیں گے، یہاں تک کہ ان کے رہنماؤں اور لاپتہ افراد کی بازیابی ممکن ہو سکے۔

Share This Article