کراچی : جبری گمشدگیوں کیخلاف احتجاجی کیمپ جاری،2 لاپتہ نوجوان بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

کراچی پریس کلب کے باہر جبری گمشدگیوں کے خلاف لگایا گیا احتجاجی کیمپ ہفتہ کو اپنے 33 ویں روز میں داخل ہوگیا۔

سخت گرمی، بار بار حکومتی یقین دہانیوں اور مشکلات کے باوجود لاپتہ افراد کے اہلخانہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

اس دوران ایک خوش آئند خبر سامنے آئی کہ ملیر سے لاپتہ میر بالاچ بلوچ اور کلری لیاری سے لاپتہ بابا پھلین بلوچ گھر واپس آگئے ہیں۔ ان کی بازیابی نے کیمپ میں شریک خاندانوں کے دلوں میں نئی امید پیدا کی ہے۔ واپسی پر احتجاجی کیمپ میں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔

لاپتہ زاہد بلوچ کے والد عبدالحمید بلوچ نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “مزید دو نوجوانوں کی رہائی ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ باقی بھی بے گناہ ہیں اور ایک دن ضرور لوٹ آئیں گے۔”

تاہم خوشی کے ان لمحات کے باوجود، دیگر لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر تشویش برقرار ہے۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں سے درجنوں بلوچ نوجوان جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ ان میں کلری لیاری، ماری پور اور لال بکھر ہاکس بے سے تعلق رکھنے والے زاہد بلوچ، شیراز بلوچ، سیلان بلوچ، سرفراز بلوچ، رمیز بلوچ، رحیم بخش بلوچ، رحمان بلوچ، چینگیز بلوچ اور دیگر شامل ہیں۔ ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی۔

اہلخانہ کے مطابق ان جبری گمشدگیوں نے پورے خاندانوں کو شدید ذہنی اور معاشی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کئی گھروں میں معصوم بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے جبکہ خواتین گھروں کی کفالت کے بوجھ تلے دب چکی ہیں۔ بزرگ والدین اپنے جوان بیٹوں کی راہ تکتے تکتے بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

احتجاجی کیمپ میں شریک رہنماؤں اور لواحقین کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے تمام لاپتہ نوجوانوں کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کریں تاکہ ان پر لگائے گئے الزامات ثابت ہوسکیں یا وہ اپنے گھروں کو واپس آسکیں۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک آخری لاپتہ نوجوان بازیاب نہیں ہوتا، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

Share This Article