بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے شاہوانی اسٹیڈیم میں بی این پی کے جلسہ پر خودکش دھماکے اور 15 افراد کی ہلاکت کے بعد آل پارٹیز نے گوادر سے چمن تک احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
کوئٹہ پریس کلب میں آل پارٹیز کی جانب سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر سردار اختر مینگل، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمودخان اچکزئی اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ دھماکے ہمیں خاموش نہیں کراسکتے، ہمارے کسی کارکن کے ہاتھ میں بندوق تھی نہ کسی نے ریاست مخالف نعرہ لگایا، حملے سے صرف 15 منٹ قبل کارکن ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگا رہے تھے۔
رہنماؤں نے کہا کہ شاہوانی اسٹیڈیم کا سانحہ صرف بلوچستان نیشنل پارٹی کا نہیں بلکہ پورے بلوچستان کا نقصان ہے۔ خودکش حملے میں اگر ہم مارے جاتے تو کیا پاکستان کو فائدہ ہوتا؟ یہ واقعہ جمہوری اور سیاسی جدوجہد کو دبانے کی ناکام کوشش ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ "ڈنکے کی چوٹ پر جلسے کریں گے، آقا اور غلامی کا رشتہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔”
پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ 8 ستمبر کو گوادر سے چمن تک احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ اس دوران سڑکیں، ٹرانسپورٹ اور ریلوے اسٹیشن مکمل طور پر بند رہیں گے۔
رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق کی لڑائی جاری رکھیں گے اور ایسے بزدلانہ حملے انہیں ہرگز پیچھے نہیں دھکیل سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہداءنے بینک لوٹا، قتل کیا یا پھر حکومت گرائی تھی، ایک اشارے پر پورے تھانے جلا سکتے ہیں ۔ پتہ نہیں کیا سوچ کر حملہ کیا گیا، اگر ہمیں مارا گیا تو جاسوسی ادارے ذمہ دار ہوں گے۔