کراچی میں احتجاجی کیمپ 30ویں روز میں داخل، لاپتہ نوجوانوں کی بازیابی تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

کراچی پریس کلب کے باہر جبری گمشدگیوں کے خلاف لگایا گیا احتجاجی کیمپ اپنے 30ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ کیمپ میں لاپتہ نوجوانوں کے اہلخانہ، خواتین، بزرگ اور بچے شریک ہیں جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھے جن پر آئین کی بالادستی، انصاف اور انسانی حقوق کی بحالی کے مطالبات درج تھے۔

اس موقع پر لاپتہ نوجوان زاہد بلوچ کے والد حمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود تاحال کوئی نوجوان رہا نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہمارے پیارے کئی مہینوں سے لاپتہ ہیں اور ریاستی ادارے ان کی موجودگی کے بارے میں کوئی جواب دینے کو تیار نہیں۔”

انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے زاہد بلوچ کو کسی عدالتی حکم یا قانونی کارروائی کے بغیر حراست میں لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس پر کوئی الزام ہے تو شواہد کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے۔ "یوں اچانک غائب کر دینا آئین اور انصاف دونوں کی خلاف ورزی ہے،” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

حمید بلوچ نے مزید بتایا کہ ان کا بیٹا حال ہی میں کراچی یونیورسٹی کے انٹرنیشنل ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سے گریجویشن مکمل کر چکا تھا اور روزگار کے محدود مواقع کے باوجود گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹانے کے لیے رکشہ چلاتا تھا۔ "وہ دن رات محنت کرتا تاکہ اپنی تعلیم کا صلہ اپنے گھر والوں کو دے سکے،

حمید بلوچ کا کہنا تھا کہ وہ خود جگر کے عارضے میں مبتلا ہیں جبکہ مالی مشکلات بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں بیٹے کی گمشدگی نے پورے خاندان کو ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

ادھر احتجاجی کیمپ میں شریک مظاہرین نے الزام لگایا کہ کراچی کے مختلف علاقوں سے ایک درجن سے زائد بلوچ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ ان میں ماری پور اور لال بکھر ہاکس بے سے شیراز بلوچ، سیلان بلوچ، سرفراز بلوچ، رمیز بلوچ، رحیم بخش بلوچ اور رحمان بلوچ شامل ہیں۔ اسی طرح ملیر کے علاقے سے میر بالاچ بلوچ اور صادق مراد بلوچ بھی کئی ماہ سے لاپتہ ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق ان نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کی وجہ سے پورے خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

حمید بلوچ نے اپنے بیٹے سمیت تمام لاپتہ نوجوانوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جب تک متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہیں ملتا، احتجاجی تحریک مزید وسعت اختیار کرے گی۔ ان کے بقول، "ہمارے بچوں کو عدالتوں میں پیش کیا جائے، ورنہ یہ احتجاج ختم نہیں ہوگا۔”

Share This Article