شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن بکتر بند ٹرین سے چین کے دارلحکومت بیجنگ پہنچ گئے ۔
شمالی کوریا کے رہنما پیر کو اپنی بکتر بند ٹرین میں سوار ہوئے اور منگل کو چینی سرحد میں داخل ہوئے۔
ان کی ٹرین نے شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ سے چین کے دارالحکومت بیجنگ تک تقریباً 1300 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔
بدھ کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ’وکٹری ڈے‘ پریڈ کا انعقاد ہوگا۔
اس میں کم جونگ ان کے ساتھ چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوتن، پاکستان کے کٹھ پتلی وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر عالمی رہنما شرکت کریں گے۔
جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ ایجنسی کے مطابق یہ ٹرین سخت حفاظتی انتظامات سے لیس ہے جس کی وجہ سے یہ آہستہ چلتی ہے۔
شمالی کوریا میں ریلوے کا نیٹ ورک کافی پرانا ہے اس لیے اس ٹرین کی رفتار کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے لیے ٹرین کے ذریعے اتنا طویل فاصلہ طے کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کم جونگ ان سے پہلے ان کے والد اور دادا بھی کئی بار ایسا کر چکے ہیں۔ یہ روایت ان کے دادا نے شروع کی تھی۔
اس رجحان کو کم جونگ ان کے والد کم جونگ ال نے آگے بڑھایا۔ کم جونگ ال مبینہ طور پر ہوائی جہاز میں سفر کرنے سے خوفزدہ تھے۔
نومبر 2009 میں جنوبی کوریا کے ایک خبر رساں ادارے نے اطلاع دی کہ اس بلٹ پروف ٹرین میں 90 بوگیاں ہیں۔
پیلی دھاریوں والی اس گہرے سبز رنگ کی ٹرین میں کانفرنس روم، سامعین کے کمرے، بیڈ رومز، سیٹلائٹ فون اور فلیٹ اسکرین ٹیلی ویژن ہیں۔ کچھ دیگر تصاویر میں اس ٹرین کے ڈبوں میں سرخ چمڑے کی بازو والی کرسیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
شمالی کوریا کے اعلیٰ رہنما کی خصوصی ٹرین کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس کے مقابلے میں لندن کی تیز رفتار ٹرین کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جب کہ جاپان کی بلٹ ٹرین کی رفتار 320 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
اس ٹرین کا نام ’تھے ینگ‘ ہے۔ کورین زبان میں اس لفظ کا مطلب سورج ہے جسے شمالی کوریا کے بانی کم ال سنگ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
طویل فاصلے کے سفر کے لیے ٹرینوں کے استعمال کی روایت کم ال سنگ نے شروع کی تھی۔ کم جونگ ان کے دادا کم ال سنگ ان دنوں ٹرین کے ذریعے ویتنام اور مشرقی یورپ جاتے تھے۔
اس ٹرین کی سکیورٹی شمالی کوریا کے سکیورٹی ایجنٹس سنبھالتے ہیں۔
وہ ٹرین کے روٹ اور آنے والے سٹیشنوں کو بموں یا دیگر خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے سکین کرتے ہیں۔
سنہ 2002 سے 2004 تک شمالی کوریا میں انڈیا کے سفیر آر پی سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی کوریا کے رہنماؤں کے لیے ٹرین میں سفر کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ رہنما عموماً ہوائی جہاز میں سفر نہیں کرتے کیونکہ وہ اسے محفوظ نہیں سمجھتے۔
آر پی سنگھ نے کہا کہ ’شمالی کوریا کے رہنما ٹرین میں سفر کرتے ہیں کیونکہ وہ اسے زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ کم جونگ ان کے والد ٹرین میں سفر کرتے تھے۔ ان کے دادا کبھی کبھی ہوائی جہاز سے سفر کرتے تھے، لیکن بنیادی طور پر ٹرین کو ترجیح دیتے تھے۔ یہ ٹرین ان کی اپنی، خاص ہے اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہے۔‘
سنہ 2001 میں، کم جونگ اُن کے والد، کم جونگ اِل، روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملنے کے لیے دس دن کے لیے ماسکو گئے۔
عام طور پر جب کسی ملک کا سپریم لیڈر کسی دوسرے ملک جاتا ہے تو وہ سفر کا تیز ترین اور آرام دہ آپشن یعنی ہوائی جہاز کا انتخاب کرتا ہے لیکن کم جونگ اُن کا معاملہ مختلف ہے۔