کراچی پریس کلب کے باہر جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ اپنے 27ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ سخت گرمی کے باوجود لاپتہ نوجوانوں کے اہلخانہ، جن میں خواتین، بزرگ اور بچے شامل ہیں، اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز ہیں جن پر انصاف اور انسانی حقوق کی بحالی کے مطالبات درج ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک لاپتہ نوجوانوں کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اس موقع پر زاہد بلوچ کے والد حمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کو کسی عدالتی حکم یا قانونی کارروائی کے بغیر لاپتہ کیا گیا۔ "اگر اس پر کوئی الزام ہے تو شواہد کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے، مگر یوں غائب کر دینا آئین اور انصاف دونوں کی خلاف ورزی ہے،” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔
ماری پور سنگھور پاڑہ سے تعلق رکھنے والی گل سدہ بلوچ نے بتایا کہ 23 مئی کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے چھاپہ مار کر ان کے دونوں بھائی شیراز اور سیلان بلوچ کو حراست میں لیا۔ "اس دن کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ ہمارے گھر میں ویرانی چھا گئی ہے اور خاندان شدید ذہنی و مالی مشکلات میں ہے،” گل سدہ نے روتے ہوئے کہا۔
لاپتہ سرفراز بلوچ کی والدہ بی بی گلشن بلوچ بھی ناساز طبیعت کے باوجود احتجاجی کیمپ میں موجود تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے اور اسے کسی جرم کے بغیر اٹھایا گیا۔ "اگر کوئی کیس ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ سچ سامنے آ سکے۔ جبری گمشدگی نے ہمارے پورے خاندان کو تباہ کر دیا ہے،” ان کا کہنا تھا۔
احتجاج میں شریک مظاہرین کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیاں متاثرہ خاندانوں کے لیے نہ صرف اذیت ناک ہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہیں۔
ان کے مطابق ریاستی اداروں کو شہریوں کو غائب کرنے کے بجائے قانونی راستہ اپنانا چاہیے۔
مظاہرین نے چیف جسٹس پاکستان، وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر نوٹس لے کر لاپتہ نوجوانوں کو عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔