تربت میں ایچ آر سی پی کی تقریب، 65 ہزار لاپتہ افراد کی بازیابی اور بی وائی سی رہنمائوں کی رہائی کیلئے قرارداد پیش

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

تربت میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کیچ کے زیراہتمام جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کی مناسبت سے تقریب منعقد ہوئی جس میں سول سوسائٹی، وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے دوران مقررین نے بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

ایچ آر سی پی مکران ریجن کے کوآرڈینیٹر پروفیسر غنی پرواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف عالمی دن ہر سال 30 اگست کو اقوام متحدہ کی جانب سے منایا جاتا ہے تاکہ حکومتوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے اس المیے کا شکار رہا ہے جہاں ہزاروں طلبہ، سیاسی کارکن اور عام شہری لاپتہ ہیں، جن میں سے بعض کی لاشیں بھی ملی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیچ اور مکران کے بے شمار خاندانوں میں والد، بھائی اور بیٹے لاپتہ ہیں جس نے ان کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔ پروفیسر غنی پرواز نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان اور متعلقہ ادارے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی روشنی میں فوری اقدامات کریں اور تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔

تقریب سے خان محمد جان گچکی، محمد کریم گچکی، نوجوان صحافی و دانشور مقبول ناصر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر کیچ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ایڈوکیٹ رستم جان گچکی، تربت سول سوسائٹی کے ڈپٹی کنوینر جمیل عمر، صحافی مبارک بلوچ، زبیر آسکانی، عبدالغنی بلوچ، منور علی رٹہ، بلوچستان اپڈیٹس کے سی ای او الطاف بلوچ سمیت متعدد شخصیات موجود تھیں۔

پروگرام کے اختتام پر جبری گمشدگیوں کے خلاف علامتی احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر جبری گمشدگیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔

تقریب کے آخر میں مختلف قراردادیں بھی منظور کی گئیں جن میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ بیبو اور دیگر کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ قراردادوں میں کہا گیا کہ وہ پرامن جدوجہد کر رہے ہیں اس لیے انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اس کے علاوہ مطالبہ کیا گیا کہ:

1- 2001ء سے اب تک لاپتہ ہونے والے 65 ہزار بلوچوں کو رہا کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کے سلسلے کو بند کیا جائے۔
2- لاپتہ کرنے اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
3- تمام لاپتہ بلوچ اور غیر بلوچ افراد کو رہا کیا جائے کیونکہ یہ عمل انسانی حقوق اور انصاف کے منافی ہے۔

قراردادیں:

1 ۔ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ ،گلزادی، بیبو بلوچ،شاہ جی اور بیبگر بلوچ سمیت تمام پچھلے پانچ مہینوں سے غیر قانونی، غیر آئینی، غیر جمہوری طور پر گرفتار کیے گئے ہیں اور جیل میں بند ہیں بلکہ کیونکہ انہوں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا ہے اس کی پاداش میں انہیں اس قسم کی سزائیں دی جائیں انہوں نے جو کچھ کیا ہے پُرامن طور پر کیا ہے اور اپنے حقوق کے لیے پُرامن جہد وجہد آئین قانون اور جمہوریت کے مطابق ہے جس کے لیے کوئی سزا نہیں دی جاتی،لہذا موجودہ پروگرام کے ذریعے ان کی فوری رہائی کا پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے۔

2۔2001 سے لے کر اب تک ایک اندازے کے مطابق 65 ہزار بلوچوں کو ماورائے آئین و عدالت اغوا کر کے لاپتہ کیا جا چکا ہے یہ اجلاس پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ مذکورہ تمام لاپتا افراد کو فوری طور پر بازیاب اور رہا کیا جائے اور ائندہ اغوا اور لاپتہ کرنے کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے۔

3۔ایک جائزے کے مطابق 2001 سے لیکر اب تک 23 ہزار سے زیادہ بلوچوں کو ماورائے آئین و عدالت قتل کر کے لاشیں مسخ کرنے کے بعد ویرانوں میں پھینکی جا چکی ہیں یہ اجلاس پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ ماورا ائین و عدالت قتل کرنے اور لاشیں مسح کر کے ویرانوں میں پھینکنے کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے۔

4 ۔ ڈاکٹر دین محمد، ذاکر مجید ،وہاب نور،دادشاہ، رفیق عمان، رشید حمید، عادل عصاء،آصف بلوچ علی اصغر بنگلزئی، چنگیز ساحر اور زرینہ مری سمیت تمام لاپتہ بلوچوں کو فوری طور پر بازیاب اور رہا کیا جائے۔

5 ۔پاکستان بھر میں ہزاروں غیر بلوچ افراد کو بھی ماورائے آئین و عدالت اغوا کر کے جبری طور پر لاپتہ کیا جا چکا ہے یہ اجلاس اس عمل کو بھی کنڈیم کرتاہے اور ان تمام لاپتہ افراد کی بازیابی اور رہائی کا بھی پرزور مطالبہ کرتا ہے ۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے علاقے کے تمام لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی کا کوئی بھی قریبی شخص جبری طور پر لاپتہ کیا جائے تو بلاتاخیر ایچ آر سی پی ریجنل آفس تربت مکران سے رابطہ کریں اور ہم سے جبری لاپتہ افراد سے متعلق اقوام متحدہ کا فارم وصول کریں اور اسے پر کرکے واپس ہمارے حوالے کریں تاکہ اسے متعلقہ اداروں کو بھیج کر جبری لاپتہ شخص کی بازیابی اور رہائی کی کوشش کی جا سکے ۔

Share This Article