بلوچوں کی جبری گمشدگیاں : اسلام آباد و کراچی میں بلوچ خاندانوں کے احتجاجی دھرنے جاری

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ افراد کی بازیابی ، بلوچوں کی جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی)کے رہنمائوں کے رہائی کے لئے اسلام آباد اور کراچی میں بلوچ خاندانوں کے احتجاجی دھرنے جاری ہیں ۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار رہنماؤں کی رہائی اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف اسلام آباد میں گزشتہ 46 روز سے مسلسل دھرنا دیا جارہا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اسلام آباد دھرنااس دوران وہ شدید گرمی، بارش، حکومتی دباؤ اور ہراسانیوں کے باوجود اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، کامریڈ بیبو بلوچ ،گلزاری بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور کامریڈ بیبگر بلوچ کی رہائی کے ساتھ لاپتہ پیاروں کی بازیابی اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق طویل دھرنے کے باوجود حکومت اور اداروں کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب یا پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

اہل خانہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی بازیابی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب کراچی میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور یہ احتجاج اب اپنے 26 ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔

پریس کلب کے باہر لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ سراپا احتجاج ہیں۔ خواتین، بزرگ اور بچے سخت گرمی کے باوجود اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے انصاف کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے لاپتہ رشتہ داروں کی واپسی تک احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

اس موقع پر لاپتہ سرفراز بلوچ کی والدہ بی بی گلشن بلوچ بیماری اور ناساز طبیعت کے باوجود احتجاجی کیمپ میں شریک ہوئیں۔ سخت گرمی اور صحت کی خرابی کے باوجود وہ بیٹے کی بازیابی کی امید میں وہاں موجود رہیں۔ بی بی گلشن بلوچ نے روتے ہوئے کہا کہ "میرا بیٹا بالکل بے قصور ہے، اسے کسی جرم کے بغیر گھر سے اٹھایا گیا۔ ہمیں صرف انصاف چاہیے۔ اگر میرا بیٹا واقعی کسی کیس میں ملوث ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ہم بھی جان سکیں۔” ان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگی کے اس عمل نے ان کے پورے خاندان کو ذہنی اور معاشی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

اسی طرح زاہد بلوچ کے والد حمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کو کسی قانونی نوٹس یا عدالتی حکم کے بغیر زبردستی لاپتہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بیٹے پر کوئی الزام ہے تو شواہد کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ قانونی تقاضے پورے ہوں۔ "عدالتوں کو نظر انداز کر کے شہریوں کو غائب کرنا انصاف کا قتل اور آئین کی خلاف ورزی ہے،” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

ماری پور کے علاقے سنگھور پاڑہ سے تعلق رکھنے والے دو سگے بھائی شیراز اور سیلان بلوچ کے اہلخانہ نے الزام لگایا کہ 23 مئی کو مبینہ طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے گھر پر چھاپہ مارا اور دونوں نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا، تاہم اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ ان کی والدہ اماں سبزی بلوچ نے کہا کہ "میرے دونوں بیٹے بے گناہ ہیں۔ ان کی گمشدگی نے گھر کو ویران اور زندگی کو اجیرن کر دیا ہے۔ نہ صرف ہم ذہنی اذیت کا شکار ہیں بلکہ خاندان شدید معاشی مشکلات سے بھی دوچار ہے۔”

احتجاجی کیمپ میں شریک مظاہرین کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیاں متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک سنگین المیہ ہیں اور یہ عمل شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی شہری کو بغیر مقدمے کے غائب کر دینا نہ صرف انصاف کے تقاضوں کو پامال کرنا ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔

مظاہرین نے چیف جسٹس پاکستان، وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ فوری نوٹس لیا جائے اور لاپتہ نوجوانوں کو عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اہلخانہ نے اعلان کیا کہ ان کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ان کے پیارے بازیاب نہیں ہو جاتے۔

Share This Article